بلوچستان میں شدید ترین سردی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے بیشتر علاقے آج کل شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ شدید سرد موسم کی وجہ سے پانی کے پائپ اور گاڑیوں کے ریڈی ایٹرز پھٹ گئے ہیں۔ کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی تیرہ اور قلات میں منفی پندرہ ڈگری سنٹی گریڈ ہو گیا ہے جبکہ کان مہترزئی میں، صوبے کا بلند ترین مقام سمجھا جاتا ہے، درجہ حرارت منفی سولہ ڈگری سنٹی گریڈ بتایا گیا ہے۔ کوئٹہ میں معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں بازاروں کی گہما گہمی ماند پڑ گئی ہے۔ کوئٹہ میں عام طور پر سردیوں میں بیشتر خاندان دیگر علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں پانی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے جہاں اکثر علاقوں میں پانی جم جانے سے پائپ پھٹ گئے ہیں اور اب مزید پانی مہیا نہیں کیا جا رہا۔ اکثر علاقوں میں قدرتی گیس کا پریشر کم ہو جانے سے گیس کی ترسیل متاثر ہو ئی ہے۔گاڑیوں کے ریڈی ایٹرز میں موجود پانی جم جانے سے اکثر گاڑیوں کے ریڈی ایٹرز پھٹ گئے ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا پانی رات کو جم جاتا ہے۔ صوبے کے دیگر علاقے بھی شدید سردی کی اس لہر کی لپیٹ میں ہیں۔ دالبندین میں کم سے کم درجہ حرارت منفی نو اعشاریہ پانچ، ژوب میں منفی چھ اعشاریہ پانچ جب کہ سبی میں کم سے کم درجہ حرارت چار سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’سردی بہت ہے اور کیا بتائیں‘05 December, 2005 | پاکستان خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان خیمہ بستیوں کے بچے سردی کا شکار30 November, 2005 | پاکستان برفباری اور بارش نے خطرہ بڑھا دیا27 November, 2005 | پاکستان پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر24 November, 2005 | پاکستان زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||