سرحد بارشیں، جشن شندور منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے صوبے کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر سالانہ جشن شندور منسوخ کر دیا ہے۔ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق جشن شندور پر جیسے شندور پولو فیسٹول بھی کہتے ہیں آنے والے سرکاری اخراجات اب سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے صرف کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ آج صوبائی دارلحکومت پشاور میں وزیر اعلی اکرم خان دورانی کی صدارت میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے بتایا کہ اگر لوگ مقامی سطح پر یہ جشن منانا چاہیں تو انہیں اجازت ہوگی لیکن سرکاری سطح پر یہ اب نہیں منایا جائے گا۔ ضلع چترال میں جشن شندور کے دوران اس کا سب سے اہم اور دلچسپ جُز دنیا کے سب سے بلندی پر پولو مقابلے ہوتے ہیں۔ تقریباً تین ہزار سات سو میٹر کی بلندی پر پہاڑوں کے درمیان ایک قدرتی جھیل کنارے کھلے میدان میں یہ سالانہ مقابلے چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان ہوتا ہے۔ تین روز کے جشن کے دوران لوگ خیموں میں رہتے ہیں اور روایتی ناچ گانے سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس جشن کے لیے ہر سال بڑی تعداد میں غیرملکی بھی پاکستان آتے ہیں۔ اس سال یہ جشن سات سے نو جولائی تک منایا جانا تھا۔ اس جشن کے آغاز سے چند روز قبل ہی اسے منسوخ کرنے کے فیصلے کا صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے دفاع کیا اور کہا کہ صوبے کے ایک حصے میں لوگ مشکل میں ہوں اور دوسرے میں جشن منایا جا رہا ہو یہ درست نہیں۔ شندور میں پہلا پولو مقابلہ انیسو چھتیس میں ایک برطانوی پولیٹکل ایجنٹ میجر کوب نے چاند رات میں منعقد کیا تھا۔ صوبائی وزیر کے پاس اعداوشمار نہیں تھے کہ اس جشن کے منسوخ ہونے سے کتنی رقم سیلاب زدگان کو میسر آسکے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||