زلزلہ: 2 بچیاں نمونیہ سے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم زلزلہ زدگان کے کیمپ میں بدھ کی صبح دو نوزائیدہ بچیاں نمونیہ سے ہلاک ہو گئی ہیں۔ کیمپ منتظمین اور ڈاکٹروں کے مطابق کیمپ میں مقیم پانچ ہزار بچوں میں سردی کی وجہ سے نمونیہ کی شکایات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ہلاک ہونے والی بچیاں اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں واقع زلزلہ زدگان کے لیے بنائے گئے کیمپ کے ڈی بلاک کی نوشین بی بی اور ای بلاک کی ثانیہ شفیق ہیں۔ان کی عمریں بالترتیب تین اور نو ماہ تھی۔ نوشین بی بی کے والد مشکور نے جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفرآباد سے تعلق رکھتے ہیں بتایا کہ منگل کی شب نوشین بی بی کو کیمپ ڈاکٹر نے شدید بخار کے بعد پمز ہسپتال بھجوایا جہاں اس کو معائنے کے بعد فارغ کر دیا گیا لیکن نوشین بی بی آج علی الصبح انتقال کر گئی۔ جبکہ نو ماہ کی ثانیہ شفیق ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی جاں بحق ہو گئی۔ کیمپ کے ڈاکٹرعلی عمران ہاشمی کے مطابق روزانہ ایک سو کے لگ بھگ نمونیہ میں مبتلا بچوں کو لایا جا رہا ہے۔ان کے مطابق کیمپ میں مقیم افراد میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بچوں کو سردی سے محفوظ رکھیں اور اپنے خیموں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ کیمپ میں مقیم افراد خصوصاً بچوں کو گرم رکھنے کے لیے سوئیٹر اور جرابیں مہیا کی جا رہی ہیں مگر بچوں کے والدین اس بات سے لاپرواہی برت رہے ہیں کہ انہیں بچوں کو سردی سے بچانا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||