’تعمیر نو: چار سال، 180 ارب روپے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے قائم ادارے ’ارتھ کوئیک ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر نے کہا ہے کہ تعمیراتی کام آئندہ چار برسوں میں مکمل ہوگا اور اس پر ایک سو اسی ارب روپے لاگت آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مظفرآباد، باغ، راولا کوٹ، مانسہرہ اور بٹہ گرام کے اضلاع میں مختلف مقامات پر دس تعمیراتی مراکز قائم کیے جائیں گے جن میں مطلوبہ سامان ذخیرہ کیا جائے گا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایوانِ صعنت و تجارت میں ’بلڈنگ مٹیریلز کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات اور تعلیمی اداروں کے علاوہ چار لاکھ کے قریب منہدم مکانات نئے سرے سے تعمیر کرنا ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ تعمیراتی کام میں مطلوبہ سامان کی فراہمی کے لیے آگے آئیں تاکہ بے گھر افراد کے لیے نئے گھروں کی تعمیر جلد ممکن ہو سکے۔ | اسی بارے میں برف وبارش: امدادی کارروائیاں معطل01 January, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین: نیا سال، نئی مشکلات 01 January, 2006 | پاکستان زلزلہ کے بعد تعمیر نو کی صورتحال31 December, 2005 | پاکستان زلزلہ اور پاکستانی میڈیا کا کردار29 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||