BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 February, 2006, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا

متاثرین
’ہمیں یہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے‘
آٹھ اکتوبر کو پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں متاثرین نے زلزلے میں بہت کچھ کھو دیا، اپنا گھر، عزیزو اقارب، اپنا طرز زندگی مگر ایک چیز ایسی تھی جو پہلے ہی کی طرح رہی اور وہ ہے فون کے بلِ۔

بالاکوٹ کے تباہ شدہ علاقے میں لوگوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہیں معلوم ہوا کہ نومبر کے آغاز میں فون کے بل ان کے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں ڈال دیے گئے۔ ان بلوں پر ریمائنڈر درج تھا کہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں فون منقطع کردیے جائیں گے۔

کئی کو اس حرکت پر شدید الجھن ہوئی کہ اب وہاں بچا کیا ہے جو منقطع کردیا جائے گا۔

کچھ متاثرین کا مطالبہ تھا کہ بل واپس لیے جائیں۔

اے ایف پی خبر رساں ادارے کے مطابق بالاکوٹ میں ٹیلی کام کے ایک اعلٰی اہلکار طاہر خان نے بتایا ہے کہ زلزلہ کے وقت 1957 ٹیلی فون لائنوں میں سے صرف 172 بحال کی جاسکی ہیں۔ تاہم انہوں نے لوگوں کی شکایات رد کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

فون کے بل بھیجنے کا واقعہ زلزلہ متاثرین کی جانب لوگوں اور اداروں کی بے حسی کی پہلی نشانی تھی جو بتدریج پھیل کر متاثرہ علاقوں کی انتظامیہ میں رچ بس گئی ہے اور اب محض پی ٹی سی ایل کمپنی ہی بے حسی کی تصویر نہیں رہی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفرآباد کی خیمہ بستیوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس قسم کے سلوک کا سامنا تقریباً روز ہی کرنا پڑتا ہے۔

جنوری کے پہلے ہفتے میں شدید برفباری کے بعد مقامی انتظامیہ نے دیوان خیمہ بستی کی بجلی کی فراہمی منقطع کردی تھی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ بہت زیادہ بجلی استعمال کررہے تھے۔

کچھ علاقوں کی مقامی انتظامیہ نے اکتیس مارچ تک مفت بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ خیمہ بستیوں میں چونکہ گیس یا کوئلے جلانا منع ہے کیونکہ اس سے آگ لگنے کا خدشہ ہے اس لیے لوگوں نے شدید سردی میں بجلی کے ہیٹروں کا سہارا لیا۔ بجلی کے زیادہ خرچے کے باعث اب انتظامیہ اپنے فیصلے پر غور کررہی ہے۔

حکام اس بات کی تردید کررہے ہیں کہ علاقے کی بجلی جان بوجھ کر منقطع کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بجلی ہی موجود نہیں جو کہ فراہم کی جاسکے۔

مقامی افراد اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک 40 فیصد دیہات کی بجلی بحال نہیں کی گئی ہے۔

غیر سرکاری ادارے یو این ڈی پی کے مظفرآباد کے ایک اہلکار سردار ریاض کا کہنا ہے ’ہمیں یہاں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایک خاندان کو گھر بنانے کے لیے 14 سے 16 ٹین کی شیٹوں کی ضرورت ہے لیکن ہر خاندان کو صرف چھ شیٹیں فراہم کی گئی ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اب تک کیا کیا گیا ہے اور کیا کچھ ہونا باقی ہے‘۔

ایک بین الاقوامی طبی امدادی ادارے کے افسر ڈاکٹر احتشام الحق کا کہنا ہے کہ ہمیں طویل المیعاد پالیسیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

امداد کی تقسیم بھی متنازعہ رہی ہے۔ اس کی ایک مثال امداد کی فوج کے ہاتھوں تقسیم ہے۔ تھرڈ ناردرن لائٹ انفنٹری کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر چیز مساوی تقسیم کی بنیادوں پر بانٹی ہے۔

یہ پالیسی خوراک کے سلسلے میں تو درست معلوم ہوتی ہے لیکن جب یہی طریقہ کار ٹین کی شیٹیں بانٹنے کے لیے آزمایا گیا تو نتیجہ تباہ کن نکلا۔ شیٹیں ہر ایک کو مل تو گئیں مگر کسی ایک کے پاس بھی اتنی شیٹیں نہ آسکیں کہ مناسب طور پر چھت بن جاتی۔

جہاں تک انتظامیہ کا سوال ہے تو انہوں نے اپنے ریکارڈ میں لکھ رکھا ہے کہ ’فتح جنگ بانڈی کے علاقے میں تقسیم مکمل‘، مگر درحقیقت علاقے میں ایک بھی گھر تعمیر نہ ہوسکا۔

اگر اب بھی حکام نے اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی نہ کی تو ان کی کارکردگی پر اٹھنے والے بے شمار سوالات سوال ہی رہ جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد