BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 January, 2006, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صورتحال اتنی خراب نہیں رہی‘

متاثرین
ایک اور مشکل مرحلہ لوگوں کی کیمپوں سے منتقلی کے بعد انہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات دینا ہے
اقوام متحدہ کے امدادی آپریشن کے نگران نے کہا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک نہیں رہی اور آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد پہلی دفعہ امدادی کاروائیوں کے ساتھ کیمپوں میں مقیم زلزلہ زدگان کو کیمپوں سے نکال کر ان کو واپس اپنے علاقوں میں بسانے کے کام کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے امدادی آپریشن کے نگران جان وتنڈر مورٹیل نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں برفباری اور بارش کے باعث صورتحال مشکل ضرور ہے مگر اتنی مشکل نہیں کہ اس پر قابو نہ پایا جا سکے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ تمام زلزلہ زدگان کے کیمپوں کو بند کر کے زلزلہ زدگان کو ان علاقوں میں فوری طور پر منتقل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ شہروں میں رہنے والے لوگوں کے پاس سر چھپانے کے لئے کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور بیشتر کسانوں کی زمین زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابل استعمال ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کے قائم کیے گئے کیمپ مارچ کے پہلے ہفتے سے مرحلہ وار بند ہونے شروع ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور مشکل مرحلہ لوگوں کی کیمپوں سے منتقلی کے بعد انہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے صحت اور بچوں سے متعلق اداروں کی کوشش ہے کہ ان لوگوں کو کیمپوں سے واپسی پر یہ سہولیات مہیا کی جائیں۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار کے مطابق زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی دوسری لہر جس کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ نہیں آئی۔تاہم انہوں نے کہا کہ کیونکہ ابھی سردیوں کا موسم ختم نہیں ہوا لہذا لوگوں کو سردی سے بچانا اور ان کے خیموں کو گرم رکھنا امدادی ایجنسیوں کی ترجیحات میں بدستور شامل ہے۔

وینڈر مورٹیل نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں فضائی امدادی کاروائی جاری ہے اور گزشتہ دو دنوں میں ان علاقوں میں بڑی تعداد میں جستی چادروں کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے آخر تک ان علاقوں میں پچاس لاکھ جستی چادریں فراہم کی جائیں گی۔

متاثرین کے کیمپوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیمپوں کی حالت بتدریج بہتر ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کو موسم کی شدت سے بچانے کے تمام انتظامات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی برادری کی طرف سے دی گئی پانچ سو پچاس ملین ڈالر کی رقم کا باسٹھ فی صد حصہ وصول ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں
زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد