زلزلہ: 17 جنوری سے نیٹو فوج واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والے’نیٹو فورسز‘ کی واپسی سترہ جنوری سے شروع ہوجائے گی۔ یہ بات پاکستان میں موجود ’نیٹو فورسز‘ کے ایک ترجمان میجر ایرک بران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی اور کہا کہ فروری کے وسط تک ان کے تمام فوجی واپس چلے جائیں گے۔ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو پاکستان میں آنے والے بدترین زلزلے سے ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور اس سے زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کے لیے پاکستان کی اپیل پر ’نیٹو فورسز‘ کے ایک ہزار کے قریب انجنیئر، ڈاکٹر اور دیگر ماہرین نومبر میں پاکستان پہنچے تھے۔ نیٹو کے فوجیوں کی پاکستان آمد متنازعہ بن گئی اور حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ وہ پاکستان میں مستقل رہیں گے اور کشمیر کا سروے کر رہے ہیں۔ حکومت نے حزب اختلاف کی تنقید کو مسترد کرتی رہی ہے۔
میجر ایرک نے بتایا کہ نیٹو فورسز اپنے ساتھ لائی گئی مشینری اور ہیلی کاپٹر وغیرہ واپس لے جائیں گے۔ ان کے مطابق یکم فروری تک زلزلہ زدہ علاقوں سے واپسی مکمل ہوگی۔ جبکہ فروری کے وسط تک تمام فوجی پاکستان چھوڑ دیں گے۔ نیٹو افواج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تین ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد دی اور بیشتر مریض دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق نیٹو کی موبائیل فضائی میڈیکل ٹیم نے بیسیوں ایسے افراد کی جان بچائی جوکہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں مرجاتے۔ انہوں نے بتایا کہ ستر سے زیادہ شیلٹر تعمیر کرنے، تعلیمی اداروں کی بحالی اور سینکڑوں ٹن ملبہ ہٹانے کا کام بھی نیٹو فورسز نے کیا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||