ہیلی کاپٹر یلغار، نتیجہ کیا نکلا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں اقوام متحدہ کے دو ہیلی کاپٹروں پر لوگوں کی یلغار کا معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے اور اس واقعہ کے بعد بہت سارے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ یہ لوگ تھے کون جو اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹروں میں زبردستی گھس آئے۔ اگر یہ متاثرین تھے تو کیا ان علاقوں سے صرف مرد ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہونا چاہتے تھے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مرد ان علاقوں سے نکل آئیں اور وہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ آئیں اور اگر یہ متاثرین تھے تو انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لانے کی کوششیں کیوں نہیں کی ؟ دوسرا سوال یہ کھڑا ہوا کہ اگر ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی مخصوص گاؤں سے ہے تو فوج اور سول انتظامیہ اس بات سے کیسے بے خبر ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ کون ہیں؟ تیسرا سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر یہ واقعات ضلع مظفرآباد اور باغ میں پیش آئے تو پھر ایک ہیلی کاپٹر نے لوگوں کو ایبٹ آباد میں کیوں اتارا جبکہ باغ اور مظفرآباد سے روزانہ امدادی پروازیں ہوتی ہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پائلٹوں نے اترنے سے پہلے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی اور اگر اطلاع دی تھی تو ان لوگوں کے حالات جاننے کے لیے ان کو مظفرآباد اور ایبٹ آباد میں اترتے وقت کیوں نہیں روکا گیا ؟ یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ ان متاثرین کا سخت سکیورٹی میں بھاگنا کیسے ممکن ہوا کیونکہ جن جگہوں سے امدادی پروازیں روانہ ہوتی ہیں وہاں فوج اور رینجرز کی سخت سکیورٹی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں واضح نہیں ہے کہ یہ واقعی متاثرین ہیں لیکن ان کی اس حرکت کی وجہ سے ان دو علاقوں کے ہزاروں لوگ وقتی طور پر امداد سے محروم ہوگئے کیوں کہ اقوام متحدہ نے ان علاقوں میں اپنی پروازیں معطل کر دیں حالانکہ اس وقت متاثرین کو جستی چادروں اور گرم کپڑوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ سوال بھی سامنے آرہا ہے اگر ہیلی کاپڑ میں زبردستی سوار ہونے والے واقعی متاثرین تھے تو یہ مظفرآباد اور ایبٹ آباد میں ہیلی کاپڑ سے اترتے ہی بھاگنے کی کوشش کیوں کر رہے تھے انھوں نے وہاں امداد طلب کیوں نہیں کی ۔ ان سوالات کا جواب اقوام متحدہ یا پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتیں ہی دے سکتی ہیں لیکن مظفرآباد میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کو اس واقعے کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان کو اس کی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور ان واقعات کی تحقیقات ہورہی ہے ۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس واقعے کی تحقیقات کب مکمل ہوگیں، صحیح صورت حال کب سامنے آئے گی لیکن ان واقعات کا فوری نقصان یہ ہوا کہ ان دو علاقوں کے رہنے والے لوگ امداد سے محروم ہوگئے ہیں اور دوسرا یہ کہ امدادی کاموں میں مصروف ادارے کسی حد تک خوفزدہ بھی ہوئے ۔ اس سے کس کا مقصد پورا ہوا شاید یہ بات کبھی بھی سامنے نہیں آ سکے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||