BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی ہیلی کاپٹروں پر دھاوا

زلزلہ زدہ علاقہ
لوگوں نے ہیلی کاپٹر کے عملے کے ساتھ بدتمیزی بھی کی
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے آپریشن کے انچارج فیڈرل ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق خان کا کہنا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں موسم کی خرابی کے باوجود صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے دو امدادی ہیلی کاپٹروں پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ایک علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں نے دھاوا بول دیا اور ہیلی کاپٹروں میں زبردستی سوار ہو کر محفوظ مقامات پر پہنچ گئے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں ریلیف کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں آپریشن کی ترجیحات میں برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوئی سڑکوں کو کھولنا اور لوگوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں بنانا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شدید برف باری اور نقطہ انجماد سے کہیں نیچے پہنچے درجہ حرارت کے وجہ سے اموات کی نئی لہر کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے تو ریلیف کمشنر نے کہا کہ پہلے بھی دو بار اس طرح کے خطرات کا اظہار کیا گیا تھا مگر اموات کی لہر نہیں آئی۔

ریلیف کمشر نے اس بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا کے نزدیک زلزلے کے بعد بننے والی جھیلوں سے پانی کی نکاسی کے بارے میں ایکشن پلان کی منظوری کے لیے وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بانامولا میں درجنوں مقامی لوگوں نے اقوام متحدہ کے ان دو ہیلی کاپٹروں پر دھاوا بول دیا جو اس علاقے میں خوراک لے کر پہنچے تھے۔

اقوام متحدہ کے اہلکار لیری ہالنگ ورتھ نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی لوگوں نے ان ہیلی کاپٹروں پر نہ صرف دھاوا بولا بلکہ ہیلی کاپٹر کے عملے کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور زبردستی ہیلی کاپٹروں میں چڑھ کر بیٹھ گئے۔

زلزلے سے متاثرہ افراد سخت موسم کا سامنا کر رہے ہیں

ان افراد کا مطالبہ تھا کہ انہیں اس علاقے سے نکال کر محفوظ مقامات کی طرف لے جایا جائے۔

ان افراد کے مجبور کرنے پر ایک ہیلی کاپٹر نے کچھ افراد کو مظفرآباد اتارا جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹر میں چڑھ جانے والے لوگوں کو ایبٹ آباد اتارا گیا۔ حکام کے مطابق یہ لوگ ہیلی کاپٹروں کے اترتے ہی وہاں سے بھاگ نکلے۔

اقوام متحدہ نے پاکستانی حکام سے اس بارے میں رابطہ کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

پاکستانی حکام نے اس واقع کا سخت نوٹس لیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت انتظامات کریں۔

آزاد کشمیر اسمبلی کا نشانزلزلہ اور انتخابات
زلزلے سے خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب
کشمیرزلزلہ، مسئلہ اجاگر
کیا زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟
امریکی ڈالرچالیس کروڑ ڈالر
زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے عالمی بینک کا قرضہ
زلزلہ زدہ بچے
نمونیا اور سانس کی تکلیف کے شکار
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
اسی بارے میں
زلزلہ: امدادی پروازیں بحال
04 January, 2006 | پاکستان
زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد