امدادی ہیلی کاپٹروں پر دھاوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے آپریشن کے انچارج فیڈرل ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق خان کا کہنا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں موسم کی خرابی کے باوجود صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے دو امدادی ہیلی کاپٹروں پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ایک علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں نے دھاوا بول دیا اور ہیلی کاپٹروں میں زبردستی سوار ہو کر محفوظ مقامات پر پہنچ گئے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں ریلیف کمشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں آپریشن کی ترجیحات میں برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوئی سڑکوں کو کھولنا اور لوگوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں بنانا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شدید برف باری اور نقطہ انجماد سے کہیں نیچے پہنچے درجہ حرارت کے وجہ سے اموات کی نئی لہر کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے تو ریلیف کمشنر نے کہا کہ پہلے بھی دو بار اس طرح کے خطرات کا اظہار کیا گیا تھا مگر اموات کی لہر نہیں آئی۔ ریلیف کمشر نے اس بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا کے نزدیک زلزلے کے بعد بننے والی جھیلوں سے پانی کی نکاسی کے بارے میں ایکشن پلان کی منظوری کے لیے وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔ ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بانامولا میں درجنوں مقامی لوگوں نے اقوام متحدہ کے ان دو ہیلی کاپٹروں پر دھاوا بول دیا جو اس علاقے میں خوراک لے کر پہنچے تھے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار لیری ہالنگ ورتھ نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی لوگوں نے ان ہیلی کاپٹروں پر نہ صرف دھاوا بولا بلکہ ہیلی کاپٹر کے عملے کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور زبردستی ہیلی کاپٹروں میں چڑھ کر بیٹھ گئے۔
ان افراد کا مطالبہ تھا کہ انہیں اس علاقے سے نکال کر محفوظ مقامات کی طرف لے جایا جائے۔ ان افراد کے مجبور کرنے پر ایک ہیلی کاپٹر نے کچھ افراد کو مظفرآباد اتارا جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹر میں چڑھ جانے والے لوگوں کو ایبٹ آباد اتارا گیا۔ حکام کے مطابق یہ لوگ ہیلی کاپٹروں کے اترتے ہی وہاں سے بھاگ نکلے۔ اقوام متحدہ نے پاکستانی حکام سے اس بارے میں رابطہ کیا ہے اور معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ پاکستانی حکام نے اس واقع کا سخت نوٹس لیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت انتظامات کریں۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||