زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر محمد خلف بائیل نے بتایا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موسم سرما کی شدت کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں اٹھارہ سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور اب بھی کئی بچے اور بوڑھے سانس کی بیماری اور نمونیہ کا شکار ہیں۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے دیگر امدادی اداروں کے ہمراہ جمعرات کو پریس بریفنگ میں بتائی اور دعویٰ کیا کہ کیمپوں میں رہنے والوں کو بیماری سے بچاؤ کے لیے مطلوبہ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر ویندی مورتیلی نے خبردار کیا کہ سخت آزمائشی گھڑی آنے والی ہے کیونکہ برف باری سے خیمے گر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برف باری تھوڑی دیر سے شروع تو ہوئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اپنی تاخیر سے آمد کا انتقام لے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے کہا کہ اس بار برف باری معمول کی اونچائی یعنی پانچ ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے بھی ہوئی ہے اور اگر بروقت انتظامات نہیں کیے گئے تو سردی کی وجہ سے مزید ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے متاثرین کو کیمپوں میں خشک اور گرم رکھنے کے لیے فی شخص تین کمبل اور فی خیمہ چار گدے اور دو پلاسٹک شیٹیں، سٹوو اور مٹی کا تیل اور جستی چادروں کی فراہمی اپنی اولین ترجیح بتائی۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بتایا کہ گرم کپڑوں اور بستروں کی اب بھی اشد ضرورت ہے تاکہ بارش اور برف باری سے متاثرہ افراد کو محفوظ کیا جاسکے۔ ان کے مطابق پہاڑی علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے پچاس ہزار کی اضافی گنجائش کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔
جان ویندی مورتیلی نے بتایا کہ برف باری والے علاقوں ’سنو لائن‘ یعنی پانچ ہزار یا اس سے اونچائی پر رہنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے جبکہ ان کے اندازے کے مطابق ’سنو لائن، سے نیچے بیس لاکھ سے زیادہ لوگ اب بھی خیموں میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ ان کے بیس لاکھ ڈالر کے اخراجات ہیں اور تاحال انہیں تین کروڑ ڈالر مل چکے ہیں جبکہ اب بھی انہیں مزید فنڈز کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگاں کی جان بچانے کے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور ان کی وقت کے ساتھ دوڑ ہے ۔ جان ویندی نے بتایا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن برائے پناہ گزین مختلف سماجی تنظیموں سے مل کر مجموعی طور پر ایک سو بیالیس کیمپوں میں رہنے والے ایک لاکھ چھتیس ہزار افراد کے لیے امداد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کی ابتدا موسم سرما کی شدت سے ہوئی ہے اور سخت سردی کی وجہ سے متاثرین کی مشکلاتیں اور مصیبتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی تیس ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بتایا کہ ان کی فضائی امداد کا کام دوبارہ بحال ہوا ہے اور سولہ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے ذریعے وہ دشوار علاقوں میں سامان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل تک جاری رہنے والے موسم سرما کے دوران پچیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی امداد پاکستان حکومت اور دیگر امدادی اداروں کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||