زلزلہ: امدادی پروازیں بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ علاقوں میں تین دن کی بارشوں اور برف باری کے بعد بدھ کے روز موسم صاف ہونے پر فضائی امدادی کاروائیاں دوبارہ بحال ہوگئی ہیں جبکہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے زمینی امدادی کارروائیاں تقریباً معطل ہیں ۔ ہیلی کاپٹرز فضا میں اڑ رہے ہیں پاکستان کی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر فاروق نے کہا کہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے خوراک کمبل گرم کپڑے ، جستی چادریں اور ادویات بھیجی جارہی ہیں ۔ میجر فاروق کا کہنا تھا گوکہ پہاڑی علاقوں میں ایک ہفتے کے لیے خوراک، ادویات اور دوسری ضروریات پہلے سے ہی جمع رکھی گئی تھیں اس لیے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج برف باری اور بارشوں کی وجہ سے بند ہونے والی سڑکوں کو کھولنے میں مصروف ہے اور یہ کہ مظفرآباد سے چکوٹھی جانے والے سرینگر روڈ کو ہٹیاں بالا تک آمد و رفت کے قابل بنادیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس سڑک کو آج رات تک یا کل صبح تک چکوٹھی تک آمد ورفت کے قابل بنادیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وادی نیلم کی سڑک بھی کھولنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنیچر کے روز بارشوں اور برف باری کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے باعث پہاڑ برف سے ڈھک گئے تھے اور کچھ علاقوں سے خیمے گرنے اور خیموں کے اندر پانی گھس آنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں ۔ بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کے ترجمان منیر سیف الدین نے کہا کہ ہم پہاڑوں میں رہنے والے بچوں کے لیے گرم کپڑوں کی کٹس بھیج رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ہم کمبل اور رضائیاں بھی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بھیج رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پہلے ایک شخص کو ایک کمبل دے رہے تھے لیکن سخت موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ہم فی فرد دو سے تین رضائیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بہت سارے ایسے بچے ہیں جن کو گرم کپڑوں اور جوتوں کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم بدھ کے روز کچھ علاقوں میں گئی تھی اور واپسی پر انہوں نے یہ اطلاع دی کے بعض جگہوں پر برف باری کے باعث لوگوں کے خیمے گر گئے ہیں ۔ تاہم میجر فاروق کا کہنا تھا کہ ان کو سردی کے باعث کسی کے مرنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پہاڑوں پر رہنے والے بہت سارے لوگوں کو خوراک کی ضرورت ہے جو ان کو پاکستان کی فوج اور دوسرے اداروں کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پہنچائی جارہی ہے اور ان کو رہائش کی بھی ضرورت ہے جس کے لیے سامان ان میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں ڈپٹی کنڑی ہیڈ خلیف بلے نے خدشہ ظاہر کیا کی بہت سارے لوگ سردی سے پیدا ہونے بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو کھانسی اور نزلے کے جو بیمار مخلتف فیلڈ ہسپتالوں میں آرہے ہیں ان میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں نے تین دن کی برف باری اور بارشوں کے بعد موسم صاف ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ۔ | اسی بارے میں ’تعمیر نو: چار سال، 180 ارب روپے‘ 02 January, 2006 | پاکستان خیموں میں شادیوں کی جلدی کیا؟26 December, 2005 | پاکستان الائی کے دوردراز دیہاتوں میں امداد09 December, 2005 | پاکستان امدادی کام کے ساتھ عقائد کی تبلیغ24 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی 31 October, 2005 | پاکستان جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال27 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||