خیموں میں شادیوں کی جلدی کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ جوڑوں کی اجتماعی شادی آج کل تقریبا ایک معمول بن گئی ہے۔ کہیں نہ کہیں متاثرہ جوڑوں کی شادی کی تقریبات روزانہ ہو رہی ہیں۔ آخر معاملہ ہے کیا؟ کیا یہ شادیاں اتنی ضروری ہیں کہ مزید کچھ عرصہ روکی نہیں جاسکتیں یا اس کی وجہ کچھ اور ہے؟ عام خیال ہے کہ آٹھ اکتوبر کی تباہی کے بعد شادی کی سوچ کسی بھی متاثرہ شخص کے ذہن میں سب سے آخر میں آنی چاہیے۔ البتہ اگر حالات ایسے ہیں کہ اِنہیں روکا نہیں جا سکتا تو وہ دوسری بات ہے لیکن تقریبا ہر دوسرے روز کسی نہ کسی خیمہ بستی سے ایسی شادیوں کی خبریں باقاعدگی سے ملتی رہتی ہیں۔ ان خبروں سے جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں حیرت بھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے بالاکوٹ میں ایسی ایک شادی میں شرکت کے بعد سے یہ بظاہر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ پشاور میں گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک اجتماعی شادی میں شرکت کی تو دلہن کی بھابی خدیجہ سے سے پوچھا اس وقت کیا یہ شادی بہت ضروری تھی کہ اسے بعد میں نہیں منعقد کیا جاسکتا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں تھیں لیکن ان کے والدین کو فکر تھی کہ ماشااللہ بچیاں جوان ہیں تو بہتر ہے ان کی ذمہ داری سے سادگی سے نمٹ لیں۔ ’یہ تو بحالی مرکز کے لوگوں نے کہا کہ نہیں یہ آپ کر رہے ہیں تو ہم آپ کی خوشی میں شامل ہو رہے ہیں۔ سب کچھ ہم خود کریں گے۔ ہم تو صرف رخصتی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ان حالات میں جوان بچیوں کا گھر میں رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔‘ زلزلہ زدگان مرکز کی منتظم سیدہ روبینہ ریاض سے دریافت کیا کہ ان حالات میں اس شادی کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی تو ان کا جواب تھا کہ متاثرین نے اُن سے اسے منعقد کرانے کے لیے مدد طلب کی تبھی یہ سب کچھ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان کی مدد اس لئے کی کہ یہ لوگ جس تباہی سے گزر کر آئے تھے اس کے بعد سے کافی رنجیدہ تھے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان میں موت ہوجائے تو شادی کئی کئی ماہ یا برسوں تک ملتوی کر دی جاتی ہے یہ تو بہت بڑی تباہی سے گزر کر آئے ہیں روبینہ نے کہا کہ شرعی طور پر بھی تین روز کا سوگ ضروری ہے۔ آپ اس سے زیادہ سوگ نہیں منائیں گے تو اس طرح تو دوماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔ ’ہم نے تو صرف انہیں مدد فراہم کی ہے۔‘ ایک تاثر یہ ہے کہ یہ شادی چونکہ مفت میں ہوجاتی ہے، تحائف کے انبار لگ جاتے ہیں اور کرانے والوں کی نیک نامی ہوجاتی ہے لہذا اچھا ہی ہے ابھی کر لی جائے۔ اس شادی میں لڑکی کو ملنے والے جہیز کی تفصیل مجھے ایک رضاکار نوشابہ نور نے بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے جہیز میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ’ان کے لیے سونے کے زیوارت اصلی بھی دیئے گئے ہیں نقلی بھی ہیں۔ ان کی اپنی خواہش تھی سلمیٰ والے غرارے ہیں سو وہ آپ دیکھیں گے انہوں نے پہنے ہیں۔ دس دس جوڑے ہماری طرف سے ہیں باقی اور لوگوں نے بھی بہت کچھ دیا ہے انہیں۔ ڈنر سیٹ ہیں، ٹی سیٹ ہیں دولہا کے لئے بہت پیسے اکٹھے ہوئے ہیں سلامیاں۔ آپ یہ سمجھیں کہ ہر دولہا کو بیس بیس پچیس ہزار روپے کیش اور سامان الگ ملا ہے۔ مہمانوں کا کھانا بھی مخیر حضرات نے کیا ہے۔‘ لیکن بالاکوٹ کے ایک دولہا عبدالقدیر اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ یہ شادیاں کسی لالچ میں کی جا رہی ہیں۔ ’ہم نے اس طرح کا پروگرام تو سیٹ کیا ہی نہیں تھا کہ مفت ہو رہی ہے یا کچھ اور۔ ہمیں تو کچھ چیز چاہیے ہی نہیں تھی۔‘ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مدد کرنے والوں کو بتایا کہ انہیں جہیز یا کچھ اور نہیں چاہیے اور وہ یہ شادی انتہائی سادگی میں جس طرح ان کے خاندان میں بالاکوٹ میں ہوتیں ہیں اس طرز پر کریں گے۔ ’یہ سوٹ اور دیگر چیزیں جو ہمیں دی ہیں مرکز والوں نے تو یہ تو ہمارا غم خوشی میں تبدیل کرنے کے لئے دیا ہے۔ ہم ان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا ہے۔ انہوں نے سب کے دل جیت لئے ہیں۔‘ کئی مبصرین کے خیال میں یہ شادیاں چونکہ متاثرین کو خوش اور مطمئن دکھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے لہذا اسے سرکاری اور نجی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ حالانکہ اس پیسے کی کئی لوگوں کے خیال میں معذور اور بیواؤں کو شاید زیادہ ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی17 December, 2005 | پاکستان بلوچستان میں اجتماعی شادیاں05 June, 2005 | پاکستان بارات لے جانے کی اجازت دی جائے25 July, 2005 | پاکستان ایل او سی کے اس پار شادی20 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||