BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی کے اس پار شادی

کشمیری دلہن
شادی کے موقع پر فرح کو اپنے دوست اور قریبی عزیز رہ رہ کر یاد آئے
کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول نے ہزاروں خاندانوں کو جدا کر رکھا ہے۔

ان کو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے نہ صرف لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے بلکہ ویزے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن خون کے رشتے ان کٹھن مراحل سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ایسی ہی ایک مثال پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منقسم کشمیری خاندانوں کے دو بچوں کی شادی کے موقع پر دیکھنے کو ملی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی فرح دیبہ کی شادی حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے دارالحکومت مظفرآباد میں ہوئی۔

اس شادی میں لڑکی کے والدین اور ایک بھا ئی نے شرکت کی-

شرکاء
فرح کی شادی کے موقع پر شرکاء کے چہروں پر خوشی اور غمی کے ملے جلے تاثرات تھے
فرح کی والدہ ظریفہ بیگم دل کی مریض ہیں اور بیٹی کے پیار نے انہیں لائن آف کنٹرول کے ایک جانب سے دوسری جانب تک کا لمبا سفر کرنے پر مجبور کیا-

وہ کہتی ہیں کہ میری صحت ٹھیک نہیں ہےمیں دل کی مریض ہوں اور میں آنے کے قابل نہیں تھی لیکن بیٹی کی شادی میں مجبوراً آنا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ مظفرآباد پہنچنے میں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔

’ہمیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر بارہ مولہ سے مظفرآباد پہنچنے میں پندرہ دن لگے- ہم بارہ مولہ میں اپنے گھر سے نکلے تو سرینگر اور جموں سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچے اور دہلی میں ویزہ کے لیے گیارا دن رکنا پڑا اور ویزہ حاصل کرنے کے بعد ہم امرتسر اور اٹاری سے ہوتے ہوئے واہگہ عبور کرکے لاہور پہنچنے اور پھر وہاں سے راولپنڈی اور پھر مظفرآباد پنہچے اور یوں یہاں آنے کے لیے ہزاروں کلو میٹر کا سفر کرنا پڑا۔‘

اس شادی میں شادی بیاہ کے خوشی کے کشمیری گیت کے ساتھ جدائی کے گانے گائے گئے اور ڈھولک کی آواز کے ساتھ ساتھ چہروں پر خوشی اور غمی کے ملے جلے تاثرات تھے۔

فرح کو جہاں یہ خوشی ہے کہ ان کے والدین اور ایک بھائی شادی میں شریک ہوئے وہیں انہیں اپنے دوست اور قریبی عزیز رہ رہ کر یاد آرہے تھے۔

فرح گزشتہ سال ستمبر میں بارہ مولا سے اپنی بہن سے ملنے یہاں آئی تھی۔اسی دوران ان کے والد فرح کو گھر واپس لے جانے کے لیے آئے لیکن انہوں نے یہیں ان کی شادی طے کر دی۔

فرح کے شوہر شفقت کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں۔ ان کا تعلق بھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور سات سال قبل مظفرآباد آئے تھے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد اس شادی میں شریک نہ ہوسکا ظاہر ہے شفقت کو اس کا بہت ملال ہے ۔

ان کا کہنا ہے میرے والد صاحب اور میرا اکلوتا بھائی، بھابی اور کچھ اور قریبی عزیز میری شادی میں آنا چاہتے تھے لیکن وہ نہ آ سکے کیونکہ ان کو بعض وجوہات کی بناء پر بھارتی حکومت نے پاسپورٹ جاری نہیں کیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد