کالا باغ ڈیم نے زلزلہ بھلا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں متنازعہ کالا باغ ڈیم پر جاری بحث نے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور متاثرین کے مسائل کی تشہیر پر ایک لحاظ سے پردہ ڈال دیا ہے ۔ اخبارات کے صفحہ اول پر جہاں زلزلے سے متعلق خبروں کو فوقیت دی جاتی تھی وہاں اب صرف کالا باغ ڈیم کی حمایت اور مخالفت میں بیانات ہی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نئے آبی ذخائر اور باالخصوص کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے بارے میں دیے گئے بیانات کے بعد میڈیا ہو یا پارلیمان، کوئی گلی ہو یا محلہ، دفاتر ہوں یا کوئی جگہ، جہاں بھی لوگ مل جل کر بیٹھتے ہیں اس محفل میں کالا باغ کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں موسم سرما کی شدت سے پیدا ہونے والے مسائل سے خیموں میں رہنے والے لاکھوں افراد پریشان ہیں اور ان کی طرف حکومت، سیاسی جماعتوں اور امدادی کارکنوں کی توجہ کم ہوتی جارہی ہے۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے کشمیر اور صوبہ سرحد میں ستر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک، سوا لاکھ کے قریب زخمی اور تیس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ چند روز قبل جب اسلام آباد میں قائم ایک بڑی خیمہ بستی جہاں گیارہ ہزار کے قریب زلزلہ زدگاں مقیم ہیں، جانا ہوا تو متاثرین نے مختلف نوعیت کے درپیش مسائل کی نشاندہی کی۔ نو بلاک والے اس کیمپ کے ایک رہائشی تاج افسر نے کہا کہ اس بستی میں بیشتر خیمے چھوٹے ہیں اور جہاں سیم کی وجہ زمین ٹھنڈی پڑ جاتی ہے وہاں اوس کی وجہ سے خیمے بھی گیلے ہوجاتے ہیں جس سے وہ سو بھی نہیں پاتے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف امدادی اداروں کے نمائندے سخت سردی سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانے اور متاثرین کی مدد کے بارے میں اپنی تجاویز پر مشتمل بیانات اب جاری کر رہے ہیں۔ لیکن نہ اخبارات پہلے کی طرح انہیں نمایاں طور پر شایع کرتے ہیں اور نہ ہی حکومت ان کا نوٹس لیتی ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||