’کالا باغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ جلد کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کریں گے اور قومی سلامتی کونسل کو ختم کرنا ملک میں مارشل لاء کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ صدر مشرف جمعرات کو لاہور میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے ظہرانے کے بعد ایڈیٹروں اور صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مشرف نے تقریباً دو گھنٹے تک صحافیوں سے بات چیت کی اور سوالوں کے جواب دیے جس میں زیادہ وقت کالاباغ ڈیم پر صرف کیا۔ انہوں نے معیشت، وردی، قومی سلامتی کونسل، کشمیر، بلوچستان اور پاک بھارت تعلقات کے موضوعات پر بھی بات کی۔ جنرل مشرف نےاس بات کا اعادہ کیا کہ وہ جلد کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سندھ اور سرحد دونوں صوبوں کا دورہ کریں گے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر یہ مشق ناکام ہوئی تو وہ ڈیم بنانے کا خود سے اعلان کردیں گے۔ صدر نے کہا کہ ڈیم پاکستان کے مستقبل اور بقا کے لیے ضروری ہے اور اسے نہ بنانا خود کشی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حزب مخالف کے پاس ڈیم کی مخالفت میں دلائل نہیں ہیں اور وہ اس معاملہ پر متفق بھی نہیں۔ مشرف نے کہا کہ چاروں صوبوں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ ملک کو مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا ہوگا۔ تاہم کچھ لوگ اس سے متفق نہیں جن کے مخصوص مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح آنکھیں بند کر کے وقت نہیں گزاریں گے اور یہ ڈیم بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیم بنانا پاکستان کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے اور ڈیم نہ بنانے والا ملک سے غداری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیم کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود کو مشکل میں ڈال کر پاکستان کے فائدے کے لیے یہ ڈیم بنا رہے ہیں۔ جب ان کی توجہ حکمران جماعت میں اختلاف پر دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ سندھ کے اندر لوگ بات کرنے سے گھبرا رہے ہیں اور وہ خود سندھ کا دور کریں گے جس کے بعد وہاں کے لوگ اس پر بات کرسکیں گے۔ مشرف نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کا زیادہ فائدہ سندھ کو ہوگا اور اس کے نہ بننے سے بھی سب سے زیادہ نقصان بھی سندھ کا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’سندھ ڈیم پر ضمانت چاہتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسے آیا آئینی یا عدالتی یا انتظامی ضمانت دی جائے‘۔ صدر نے کہا کہ ’قومی اتفاق رائے کی تعریف متعین ہونی چاہیے اور اس پر عملی شکل کی تعریف بھی متعین ہونی چاہیے‘۔ ایک سوال کے جواب میں صدر مشرف نے کہا کہ تکنیکی کمیٹی میں شامل نو ارکان نے کالاباغ ڈیم بنانے کی حمایت کی ہے جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے رکن نے کہا ہے کہ اگر اس سے نہریں نہ نکالی جائیں تو کالاباغ ڈیم بنا لیا جائے۔ مشرف نے کہا کہ افغانستان اور بھارت یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان پانی سمندر میں ضائع کررہا ہے اور اگر پاکستان نے ڈیم نہ بنائے تو وہ اس پانی کو روک کر اس پر ڈیم بنالیں گے اور پاکستان اس معاملہ پر عالمی عدالت میں بھی بھارت کو نہیں روک سکے گا۔ صدر نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل ملک میں پائیدار جمہوریت قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ کہ ملک میں تین پاور پلیئرز رہے ہیں۔ ایک صدر، دوسرا وزیراعظم اور تیسرا فوج کا سربراہ اور ان تینوں کو قومی سلامتی کونسل میں کردار دیا گیا ہے۔ مشرف نے کہا کہ وہ رہیں یا نہ رہیں لیکن یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ جس نے بھی قومی سلامتی کونسل توڑنے کی کوشش کی وہ ملک میں مارشل لاء کو دعوت دے گا۔ صدر مشرف نے کہا کہ ان کی فوجی وردی سنہ دو ہزار سات تک کوئی مسئلہ نہیں اور وہ اسے اسی وقت دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کارروائی قومی مفاد میں کی جا رہی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ کشمیری رہنما بشمول علی گیلانی، میر واعظ، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں سے فوجیں نکال لی جائیں اور پاکستان کشمیر سے فوری طور پر فوجیں نکالنے کی حمایت کرتا ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||