’عالمی بینک ڈیم کیلیے فنڈز نہ دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان فشر فوک فورم‘ اور ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایکشن ایڈ‘ نے مشترکہ طور پر جمعرات کے روز اسلام آباد میں واقع عالمی بینک کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ انڈس ڈیلٹا کو بچایا جائے اور کالا باغ ڈیم سمیت متنازعہ آبی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم نہ کیے جائیں۔ صوبہ سندھ میں ماہی گیری سے وابستہ افراد کی تنظیم ’فشر فوک فورم‘ کے نمائندوں نے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، صدر جنرل پرویز مشرف اور عالمی بینک کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ مظاہرے کے شرکاء کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے جن پر’انڈس ڈیلٹا کو تباہی سے بچایا جائے‘،’اور پانی دیا جائے‘،’ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ ترک کیا جائے‘ اور ’سونا چاندی نہیں پانی دیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اسلام آباد میں سابقہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کی عمارت کے سامنے واقع عالمی بینک کے دفتر کے باہر پولیس اہلکار بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک عالمی بینک کے سینیئر اہلکار ان سے ملنے نہیں آتے اور یاداشت وصول نہیں کرتے اس وقت تک وہ مظاہرہ ختم نہیں کریں گے۔ اس پر عالمی بینک کے دو اہلکاروں نے مظاہرین سے یاداشت نامہ وصول کیا۔ فورم کے سربراہ محمد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ انڈس ڈیلٹا دنیا کے چھ بڑے ڈیلٹا میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق انڈس ڈیلٹا باون ہزار مربع کلومیٹر پر کراچی سے رن کچھ تک پھیلے سولہ ’ کریکس‘ پر مشتمل ہے اور اس علاقے میں ستائیس لاکھ افراد کے علاوہ کئی جنگلی اور آبی نسلوں کا گھر بھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی واقع ہونے سے بیس لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین سمندر نگل چکا ہے اور کئی جنگلی اور آبی حیات کی نسلیں ناپید ہوچکی ہیں۔ محمد علی شاہ کے مطابق انڈس ڈیلٹا کی تباہی کی وجہ سے تین لاکھ کی آبادی نقل مکانی کرچکی ہے۔ انہوں نے عالمی بینک کے نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ کالا باغ ڈیم سمیت کسی بھی ایسے آبی منصوبے کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں جس سے انڈس ڈیلٹا تک پانی نہ پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ فشر فوک فورم نے بدھ کے روز ایک مقامی ہوٹل میں متنازعہ آبی وسائل اور سندھ میں پانی کی قلت کے باعث متاثر ہونے والی ماہی گیری کی صنعت کو لاحق خطرات کے بارے میں سیمینار منعقد کرنا چاہا تھا لیکن ہوٹل انتظامیہ نے انہیں عین وقت پر جگہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ | اسی بارے میں اجازت نہ ملنے پر شرکاء کا احتجاج 28 December, 2005 | پاکستان کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی22 December, 2005 | پاکستان ’نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے‘26 December, 2005 | پاکستان ’کالا باغ پر بھاشا کو فوقیت دی جائے‘28 December, 2005 | پاکستان ’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘22 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||