BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجازت نہ ملنے پر شرکاء کا احتجاج

احتجاج
تاج حیدر کے مطابق حکومت سے اختلاف رکھنے والوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں آبی ذخائر کے بارے میں ہونے والے ایک سیمینار کے شرکاء کو ہوٹل کی انتظامیہ نے سیمینار منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی اور ہال کو تالا لگا کے شرکاء کو ہوٹل سے باہر نکال دیا۔

اس کے بعد کانفرنس کے شرکاء جن میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی، سندہ کی قوم پرست جماعتوں کے رہنما، سرائیکی رہنما، پاکستان فشر فوک فورم اور ایک غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کے عہدیداران شامل تھے، نے ہوٹل کے باہر ایک مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں کالا باغ ڈیم اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور حکومتی ایجنسیوں کو اس سیمینار کو درہم برہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر جو اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت لوگوں کو بند کمرے میں بھی مسائل پر بات کرنے نہیں دے گی تو پھر لوگ کیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے اختلاف رکھنے والوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کی وفاداریوں کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔

تاج حیدر کے مطابق کالا باغ ڈیم کا مسئلہ ایک بہت بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے اور خطرہ ہے کہ اس کے نتیجے میں بہت بڑی خونریزی ہو سکتی ہے۔

سندھی قوم پرست رہنما قادر مگسی کا کہنا تھا کہ سندھ، سرائیکی علاقوں اور بلوچستان کے لوگ یہاں آئے تھے تاکہ کالاباغ ڈیم کے خلاف سرکاری
پروپیگنڈے کو پردہ فاش کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پاکستان کی تباہی و بربادی کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب لوگ سوچ رہے ہیں کہ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے یا کسی فرد واحد کا گھر ہے جہاں حکومت مخالف لوگوں کو آنے اور بات کرنے سے روکا جاتا ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق سندھ سے ساٹھ لوگ کل رات جب ہوٹل پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ایجنسیوں نے ہوٹل انتظامیہ کو دھمکی دی ہے کہ یہ لوگ کالاباغ ڈیم کے مخالف ہیں لہذا ان کو نہ تو ہوٹل میں ٹھہرایا جائے اور نہ ہی ان کو اپنا پروگرام کرنے کی اجازت دی جائے۔

 سندھی قوم پرست رہنما قادر مگسی کا کہنا تھا کہ سندھ، سرائیکی علاقوں اور بلوچستان کے لوگ یہاں آئے تھے۔

ہوٹل کے مینیجر محمد حسیب کے مطابق اس سیمینار کی بکنگ نہیں تھی تاہم ایکشن ایڈ کے عہدیداران کے مطابق اس ہوٹل میں یہ سیمینار دو روز سے چل رہا تھا اور بدھ کو انہیں کہا گیا کہ وہ ہوٹل میں ٹھہرائے جانے والے لوگوں کو لے کر بارہ بجے تک ہوٹل سے نکل جائیں۔

اسی بارے میں
کالا باغ ڈیم کے خلاف مظاہرہ
20 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد