کالاباغ کی مخالفت، بھاشا کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تین صوبوں نے کالاباغ ڈیم بنانے کی مخالفت کی ہے اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ جبکہ صوبہ پنجاب نے بھاشا ڈیم کے ساتھ کالا باغ ڈیم بنانے پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکومتی سینیٹر نثار میمن کی سربراہی میں بنائی جانے والی آبی ذخائر کے بارے میں آٹھ رکنی پارلیمانی کی ایک رپورٹ آج سینیٹ میں پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے علاوہ تینوں صوبے کالا باغ ڈیم بنانے کے مخالف ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی نے آبی ذخائر کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف بیان کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سندھ اور سرحد نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی جبکہ بلوچستان نے بھی دونوں صوبوں کی حمایت کی۔ صرف صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نے بھاشا ڈیم اور کالاباغ ڈیم ساتھ بنانے کی حمایت کی۔ اس رپورٹ میں چار بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے بارے میں غور کیا گیا جس میں کالاباغ، بھاشا، اکھوڑی اور سکردو ڈیم بنانے کے بارے میں جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بھاشا ڈیم کی تعمیر سن دو ہزار سات میں شروع کی جا سکتی ہے اور یہ ڈیم دو ہزار چودہ میں مکمل ہو گا۔ پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں نے اس پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ | اسی بارے میں کالاباغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا: مشرف29 December, 2005 | پاکستان ’عالمی بینک ڈیم کیلیے فنڈز نہ دے‘29 December, 2005 | پاکستان ’کالا باغ پر بھاشا کو فوقیت دی جائے‘28 December, 2005 | پاکستان اجازت نہ ملنے پر شرکاء کا احتجاج 28 December, 2005 | پاکستان ’ کالاباغ ڈیم کسی صورت نہیں بنےگا‘26 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی فوراً بند کی جائے‘24 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||