جنرل زبیر کی غیر متوقع سبکدوشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے لیے قائم کردہ ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر پیر کے روز غیر متوقع طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ زلزلے کے بعد حکومت نے دو نئے ادارے قائم کیے تھے جس میں فیڈرل ریلیف کمشنر، اور ارتھ کوئک ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی شامل ہیں۔ دونوں اداروں کے سربراہ حاضر سروس فوجی مقرر کیے گئے تھے اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ان کی جگہ غیر فوجی سربراہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی تعیناتی پہلے دن سے متنازعہ بنی رہی اور اسی وجہ سے حزب اختلاف نے زلزلہ زدگاں کی بحالی کے کاموں کے لیے حکومت کی بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی میں بھی شمولیت نہیں کی تھی۔ پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنرل زبیر نے اتھارٹی قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے اور اب یہ ادارہ تعمیر نو کے کام کرسکتا ہے اس لیے وہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل زبیر نے صدر سے ملاقات کی اور بیان کے مطابق صدر نے ان کے کام کی تعریف کی۔ اس بارے میں حکومت کی جانب سے تاحال مزید کچھ بھی نہیں بتایا جارہا کہ آیا اس ادرارے کا اب نیا سربراہ سویلین ہوگا یا کوئی فوجی۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ان کی اچانک سبکدوشی عالمی امدادی اداروں کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ چند روز قبل انسداد بدعنوانی کے متعلق عالمی ادارے ’ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل‘ نے اسلام آباد میں ایک سیمینار کیا تھا اور اس میں زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے کام کو شفاف بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا۔ حکومت کی اپیل پر ڈونر کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں نے چھ ارب ڈالر سے زیادہ امداد اور قرض کی صورت میں رقوم دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن تاحال ان میں سے تیس کے قریب ممالک اور اداروں نے کوئی جواب ہی نہیں دیا اور دیگر سے بھی صرف معمولی رقم ہی مل سکی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتیں اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں تعمیر نو اور بحالی کے کام کو شفاف بنانے کے لیے دونوں اداروں کے غیر فوجی سربراہ تعینات کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جبکہ بعض عالمی امدادی اداروں نے بھی ایسے بیانات دیے تھے۔ اس تناظر میں تعمیر نو اور بحالی کے کام شروع ہونے سے محض دو تین ہفتے قبل اچانک لیفٹیننٹ جنرل زبیر کا نئے قائم کردہ ادارے کی سربراہی سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے اتھارٹی کا قیام 12 October, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن جاری رہے گا‘12 February, 2006 | پاکستان ’امداد کی تقسیم کاعمل شفاف ہوگا‘07 February, 2006 | پاکستان لائبریری کونسی لائبریری؟06 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||