لائبریری کونسی لائبریری؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایکسکیوز می۔۔۔ اس سڑک پر ایک لائبریری ہے۔ کیا آگے ہے یا میں پیچھے چھوڑ آیا؟ لائبریری؟ کونسی لائبریری؟ یہاں تو کوئی لائبریری نہیں ہے۔ یہ تو بس خیر آباد گارڈن ہے جہاں آپ کو خیمہ بستی نظر آرہی ہے۔آگے وزیرِ اعظم ہاؤس ہے اور پیچھے آپ پریذیڈنٹ ہاؤس چھوڑ آئے ہیں۔میں اس خیمہ بستی میں دو ڈھائی مہینے سے ہوں۔ یہاں تو کوئی لائبریری نہیں ہے۔ اس وقت تو میں نے اس آدمی کی بات پر یقین نہیں کیا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ وہ بھی درست کہہ رہا تھا کیونکہ لائبریری تو صرف آٹھ اکتوبر کی صبح تک تھی۔اب تو وہاں چھوٹے چھوٹے پتھروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بس سڑک کے دوسری جانب ایک خیمہ لگا ہوا ہے جس میں لائبریری کے کلاسیفائر سید نواز حسین نقوی اور ان کے اسسٹنٹ راجہ عاطف بیٹھتے ہیں۔اور سامنے کے دوموٹر گیراجوں میں پڑی بچی کھچی کتابوں کو احتیاط سے علیحدہ کرتے ہیں۔اور بہتر کنڈیشن والی کتابوں کو میرپور کی خدابحش لائبریری میں بجھوا دیتے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی یہ سب سے اہم لائبریری قائد اعظم کے سیکریٹری اور بعد میں کشمیر کے صدر کے ایچ خورشید کی یاد میں انیس سو اٹھاسی میں قائم ہوئی تھی۔ اس دومنزلہ لائبریری میں چھیالیس ہزار کتابیں تھیں۔ان میں سب سے اہم سیکشن کشمیریات کا تھا، جس میں تئیس سو نادر کتابیں تھیں۔ان میں سے کچھ لندن کی انڈیا آفس لائبریری سے حاصل کی گئی تھیں اور بعض اتنی نادر تھیں کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں شاید ان کی دو تین جلدیں ہی باقی ہوں گی۔اس سیکشن میں ڈوگرہ دور کی اسمبلی کارروائی کا کچھ ریکارڈ بھی موجود تھا جو موجودہ وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات کے والد فتح محمد خان کریلوی نے لائبریری کو عطیہ کیا تھا۔ پاکستان میں کوئی ایسا محقق نہیں ہے جس نے کشمیر پر تحقیق کے سلسلے میں اس ذخیرے سے استفادہ نہ کیا ہو۔ اس کے علاوہ پچھلے سترہ برس کے اخبارات کا ریکارڈ بھی اس لائبریری میں موجود تھا۔ کلاسیفائر نواز نقوی اور ان کے اسسٹنٹ عاطف نے بتایا کہ اگرچہ اب تک حتمی تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے لیکن ان کا اندازہ ہے کہ زلزلے اور اس کے بعد بارش کے نتیجے میں کوئی سات ہزار کے لگ بھگ کتابیں ضائع ہوئی ہیں۔ لائبریری کی دوسری منزل پر امور خانہ داری اور بچوں سے متعلق اچھی خاصی کتابیں تھیں۔وہ تباہ نہیں ہوئیں بلکہ شروع کے تین دن میں غائب ہوگئیں۔
اس عرصے میں کچھ زلزلہ متاثرین نے سردی اور بارش سے بچنے کے لئے بھی کچھ کتابوں اور اخبارات کو استعمال کرنے کی کوشش کی اور آگ جلانے کے لئے بھی کتابیں کام میں لائی گئیں۔ لائبریری کے عملے کا کہنا ہے کہ انہیں بھی لوگوں نے بتایا کہ یہ سب ہوا ہے کیونکہ وہ خود تین روز بعد اس قابل ہوئے کہ لائبریری کی حالت آ کر دیکھ سکیں۔ جلال آباد کی خیمہ بستی میں لائبریری کے ملبے کے قریب ایک پناہ گزین خاتون فریدہ نے کہا کہ آخرآپ بار بار یہ کیوں پوچھ رہے ہیں کہ کتابیں کیوں جلائی گئیں۔ جب جنازے بے کفن پڑے ہوں۔کھانے کو کچھ نہ ہو۔لکڑیاں تک ملبے سے نکالنا مشکل ہوں۔اوپر سے بدن پر موٹے کپڑے نہ ہوں اور بارش بھی ہوجائے تو بتائیں آدمی کیا کرے گا۔اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لئے کیا کرے گا۔جو بھی ملے گا اسے جلائے گا۔ہمیں کتابیں نظر آئیں ہم نے انہیں استعمال کرلیا۔اسوقت کسے ہوش تھا کہ یہ کتاب ہے اسے مت جلاؤ۔کیا کرتے۔ٹھٹھرتے رہتے کتابوں کے احترام میں؟؟؟؟ | اسی بارے میں ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم کونسا آئین اور کیسی ضمانت25 December, 2005 | قلم اور کالم نسیمہ اور جان کیری15 January, 2006 | قلم اور کالم سائیں سہیلی سرکار کا مظفر آباد21 January, 2006 | قلم اور کالم تین سرداروں کا بلوچستان22 January, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||