سائیں سہیلی سرکار کا مظفر آباد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے سائیں سہیلی سرکار کے ایک سپروائزر راجہ نعیم نے بتایا کہ ہم نے اس آٹھ روزہ میلے کی اختتامی تقریبات میں پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز کو مدعو کیا تھا لیکن وہ بھی مجبور تھے کیونکہ انہیں واشنگٹن جانا تھا۔انکے قریب کھڑے ایک ملنگ نے فقرہ لگایا۔ صدر اور وزرائے اعظم کا آستانہ وہاں ہے ہم غریبوں کا یہاں ہے۔ پنجتن پاک تے سائیں سہیلی سرکار دی خیر۔۔۔ اگرچہ سائیں کے آستانے پر آنے والے ننانوے فیصد لوگوں کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں کہ سہیلی سرکار کون تھے۔ البتہ مزار کی دیکھ بھال کرنے والے محکمہ اوقاف نے جو معلومات جمع کی ہیں ان کے مطابق سائیں اب سے کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے ملتان سے چلے اور ایبٹ آباد اور مانسہرہ رکتے ہوئے گڑھی حبیب اللہ کے راستے یہاں پہنچے جہاں آج مظفر آباد ہے تو اس وقت یہاں کچھ بھی نہ تھا۔ بقول سپروائزر راجہ نعیم، سائیں نے اس جگہ ڈیرہ جمایا تو یہ شہر بھی آباد ہوا۔شائد یہی وجہ ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں جب سارا شہر تلپٹ ہوگیا تب بھی اس شہر کے پیٹرن سینٹ کے مزار کو خراش تک نہیں آئی۔ گزشتہ برس تک سائیں سہیلی سرکار کے میلے میں پنجاب اور صوبہ سرحد سے کاروباری حضرات آ کر آ ٹھ روز تک دکانیں سجاتے تھے۔گتکے باز ٹیمیں آتی تھیں۔ قوال پارٹیاں اتنی بڑی تعداد میں آتی تھیں کہ ہر پارٹی کو پرفارمنس کے لیے صرف آدھ گھنٹہ ملتا تھا لیکن اس بار مزار کے احاطے میں چونکہ این جی اوز کے کیمپ لگے ہوئے ہیں اس لیے صرف لنگر کا انتظام ہے۔ سائیں کی دیگر تعلیمات کسی کو یاد ہوں نہ ہوں البتہ معتقدین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کسی کو اپنی مراد پوری کرانی ہو تو مٹی کے دیے میں چرس جلائے۔ کیونکہ سائیں کو یہ حالتِ جذب مرغوب تھی۔ لہذا سارا سال مزار پر چرس پینے کی ممانعت ہے لیکن میلے کے آٹھ دنوں میں یہ پابندی اٹھ جاتی ہے اور یوں خوب دھواں دار عرس ہوتا ہے اور دیے میں جلنے والا چرس ملا تیل تبرکاً بالوں میں بھی لگایا جاتا ہے مزار پر حاضری دینے والے ایک این جی او ورکر کے بقول اس طرح کی سرگرمیاں ایک بڑے سانحے کے بعد نہ صرف لوگوں کے لیےتھراپی ثابت ہوتی ہیں بلکہ ان میں جینے کا حوصلہ بھی پیدا کرتی ہیں لیکن میں اس ورکر سے اپنی بات مکمل نہیں کر پایا کیونکہ ایک ملنگ نے زور سے میرے کان کے قریب آ کر نعرہ لگادیا۔ سائیں سہیلی سرکار دی خیر ۔۔۔پنجتن پاک دی خیر۔۔۔ |
اسی بارے میں مفت مشورہ: تھوڑا سا آرام کر لیں18 September, 2005 | قلم اور کالم دوہری شخصیت کا مسئلہ28 August, 2005 | قلم اور کالم بیک اپ سپورٹ 21 August, 2005 | قلم اور کالم مدرسوں کے طلباء کی بے دخلی کیوں؟ 07 August, 2005 | قلم اور کالم کن ٹوٹا27 July, 2005 | قلم اور کالم تیس نمبر بس10 July, 2005 | قلم اور کالم کہ ہم غریب ہوئے ہیں03 July, 2005 | قلم اور کالم اور صرف شاعر تو26 June, 2005 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||