 | | | تین ماہ گزرنے کے بعد بھی زلزلہ زدہ علاقوں کا سروے جاری نہیں ہوسکا |
اگر میں حزبِ اختلاف ہوں تو میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں عوام کو بتاؤں کہ حکومت نے ڈیڑھ ماہ قبل زلزلہ زدگان کو یقین دلایاتھا کہ سردیاں عروج پر آنے سے پہلے پہلے تمام متاثرہ خاندانوں کو عارضی شیلٹر مل جائے گا۔ لیکن اب تک محض پچیس سے تیس فیصد متاثرین ہی اپنے سروں پر چادر چھت ڈالنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی زلزلہ زدہ علاقوں کا سروے جاری نہیں ہوسکا نہ ہی نئے تعمیراتی قوانین مرتب ہوسکے ہیں اور نہ ہی یہ تفصیل جاری ہوسکی ہے کہ اب تک بچاؤ اور بحالی کے کاموں کے لئے اندرون اور بیرون ملک سے جو مادی اور مالی امداد جمع ہوئی ہے وہ کس کس کے توسط سے کہاں کہاں اور کتنی کتنی خرچ ہوئی ہے۔ لیکن اگر میں کوئی سرکاری ترجمان ہوں تو میرا موقف یہ ہوگا کہ حکومت اپنے طور پر ہر متاثرہ فرد کو شیلٹر کی فراہمی کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور اگر اس سلسلے میں کوئی معمولی کمی بیشی رھ گئی ہے تو اسکی ذمہ داری خراب موسم اور دشوارگزار راستوں پر عائد ہوتی ہے ۔ پچاس فیصد متاثرین کو شیلٹر فراہم کیا جاچکا ہے جوکہ ان حالات میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ زلزلے کی سروے رپورٹ کو آخری شکل دی جاچکی ہے اورتعمیراتی قوانین بھی عنقریب نافذ ہونے والے ہیں۔ حکومت جلد ہی ایک ویب سائٹ بھی بنائے گی جس پر تمام امداد اور اخراجات کی تفصیل ہوگی اور ان اقدامات سے مخالفت برائے مخالفت کرنے والوں کے منہ بند ہوجائیں گے۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوں تو میرا موقف ہوگا کہ وزیرستان کے بعد اب بلوچستان میں بھی نہتے لوگوں پر فوج کشی کی جارہی ہے اور حقوق طلب کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ لیکن اگر میں وزیر ہوں تو میرا موقف ہوگا کہ حکومت وزیرستان ہو یا بلوچستان ہر جگہ دہشت گردوں اور قانون ہاتھ میں لینے والے مٹھی بھر شرپسندوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ان علاقوں میں کوئی فوجی آپریشن ہورہا ہے بلکہ یہ مقامی سطح کی انتظامی کاروائی ہے۔ حکومت مخالف قوتیں صورتحال کو مسخ کرکے ملکی سالمیت کی قیمت پراپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتی ہیں۔ اگر میں حکومت میں شامل نہیں ہوں تو میں کہوں گا کہ کالاباغ ڈیم آبپاشی کا نہیں بلکہ وفاقی ڈھانچے کو ڈبونے کا منصوبہ ہے اور اسکی آڑ میں پنجاب اور بیوروکریسی چھوٹے صوبوں کو معاشی طور پر یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر میں کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار ہوں تو میرے خیالات یہ ہوں گے کہ کالا باغ سمیت تین ڈیم فوری طور پر نہ بن سکے تو ملک بیس برس بعد پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔ کالا باغ کے مخالف تنگ نظر علاقائی سوچ کو ترک کرکے صرف اور صرف پاکستان کے لئے سوچیں۔ آدمی تو میں ایک ہی ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب میں حکومت کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے ہر شے سبز نظر آتی ہے لیکن جب میں حزبِ اختلاف کا حصہ ہوتا ہوں تو ہر چیز کا رنگ سرخ سرخ سا ہوجاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ سیاست اور حکومت میں آنے کے بعد مجھے سفید اور سیاہ نظر نہیں آتا۔ کیا کامیاب حکمرانی یا سیاسی کاروبار میں کامیابی کے لئے کلر بلائنڈ ہونا ہی شرط ہے۔ |