BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 December, 2005, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا

ڈیم
کالا باغ ڈیم کی راہ میں تنگ نظر سیاست سے زیادہ ماضی آڑے آ رہا ہے
بنگلہ دیش انیس سو اڑتالیس میں اسی دن بن گیا تھا جب پاکستان کی چھپن فیصد بنگالی اکثریت کو یہ بتایا گیا تھا کہ صرف اردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔

بنگالی کو یہ درجہ نہیں مل سکتا۔اس دن بنگالیوں کو معلوم ہوگیا کہ فیصلہ سازی میں ان کا اختیار کتنا ہے۔

انیس سو تہتر کے متفقہ آئین میں یہ طے ہوا کہ دس برس کے اندر کنکرنٹ لسٹ میں شامل محکموں کا اختیار صوبوں کے حوالے کردیا جائےگا۔لیکن دس برس کے اس وعدے کو بھی بتیس برس گذرگئے۔

صوبوں اور وفاق کے درمیان آمدنی اور وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، ترقی اور پسماندگی کے تناسب پر ہونی چاہیے یا رقبے کی بنیاد پر۔اس بارے میں آج تک کوئی ایسا مستقل فارمولا نہیں بن سکا جس پر سارے صوبوں اور وفاق کا اتفاق ہو۔اور ہر دفعہ جس عارضی فارمولے کے تحت وسائل اور آمدنی کی تقسیم ہوتی ہے اس پر بھی فریقین ایک دوسرے سے شاکی رہتے ہیں۔

بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت مشترک دریاؤں کے استعمال کے بارے میں پہلا حق دریا کے زیریں علاقے میں واقع ریاست کا تسلیم کیا جاتا ہے۔اس بین الاقوامی قانون کے تحت دریائے نیل جن سات افریقی ممالک سے گزرتا ہے ان میں مصر نیل کے سب سے آخری سرے پر واقع ہے ۔اس لیے باقی چھ ممالک مصر کی رضامندی کے بغیر دریا پر کوئی بند یا بیراج تعمیر نہیں کرسکتے۔

اسی قانون کے تحت پاکستان نے بھارت کے زیرِ انتطام کشمیر میں وولر بیراج اور کشن گنگا پروجیکٹ کو چیلنج کررکھا ہے۔لیکن جب خود پاکستان میں دریائی پانی کی صوبائی تقسیم کا سوال اٹھتا ہے تو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور آبی تقسیم کے ذمہ دار ادارے ارسا یا پانی وبجلی کے ادارے واپڈا سمیت کوئی پالیسی ساز ادارہ بین الاقوامی قانون کا حوالہ نہیں دیتا۔

اگر اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی قومی زبان بن جاتی،صوبوں کو کنکرنٹ لسٹ کے تحت اختیارات منتقل ہوجاتے، وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا اطمینان بخش مستقل فارمولا طے پاجاتا اور آبی تنازعات کے حل میں ملکی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کو بھی مدِنظر رکھ لیا جاتا تو کالا باغ ڈیم بھی اب سے دس برس پہلے مکمل ہو چکا ہوتا۔

کالا باغ ڈیم کی راہ میں تنگ نظر سیاست سے زیادہ ماضی آڑے آ رہا ہے۔

اسی بارے میں
’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے
14 November, 2005 | قلم اور کالم
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
اگر اب بھی !
23 October, 2005 | قلم اور کالم
رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟
17 October, 2005 | قلم اور کالم
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
25 September, 2005 | قلم اور کالم
مفت مشورہ: تھوڑا سا آرام کر لیں
18 September, 2005 | قلم اور کالم
ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں
09 October, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد