بلب چاہیے تاکہ بات صاف صاف ہو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(اس داستان میں سوائے محمد شفیق جتنے بھی کردار ہیں وہ حقیقی ہیں لیکن میں ان کرداروں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ ان کی شناخت بدل دی جائےگی۔) محمد شفیق مجھے بالاکوٹ کے نواحی علاقے گرلاٹ میں اس وقت ٹکرایا جب میں نفسیاتی علاج کے ایک کیمپ میں مقیم ماہرین سے باتیں کررہا تھا۔ محمد شفیق اس کیمپ میں بطور مریض آیا تھا لیکن آج کل نفسیاتی ماہرین کی ٹیم کے ساتھ بطور سوشل ورکر کام کررہا ہے۔ اسی سے مجھے معلوم ہوا کہ زلزلے نے جن لوگوں کے گھربار کو تہہ وبالا کردیا ہے ان میں سے کچھ اس دکھ کا سامنا کرنے کے بجائے منشیات کا سہارا لے چکے ہیں۔اس نے مجھے پیشکش کی کہ وہ اپنے اعتماد کے کچھ لوگوں سے میری ملاقات کروا سکتا ہے۔ اور یوں میں ان نوجوانوں سے ملا جو اپنا بیشتر وقت ایک خیمے میں چرس پی کر گذارتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو مرشد، سرکار، جنابِ عالی اور بادشاہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ جنابِ عالی سے جب محمد شفیق نے میرا تعارف کروایا تو جنابِ عالی نے پہلا کام یہ کیا کہ خیمے کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے ایک بلب کا انتظام کرنے کی خاطر نکل کھڑا ہوا۔تمام لوگ جنابِ عالی کو روکتے رہ گئے لیکن ان کی دلیل یہ تھی کہ بلب کی روشنی اس لئے ضروری ہے کہ جو بھی بات ہو وہ صاف صاف ہونی چاہئے۔ اس دوران میری سرکار سے گفتگو شروع ہوگئی۔ سرکار کی عمر بائیس سال ہے۔ چار جماعتیں پاس ہے۔ صرف مزدوری کرنا جانتا ہے۔اس نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے اس نے سگریٹ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ ہر مہینے پانچ ہزار روپے تک کما لیتا تھا۔ اس کی والدہ اور چھ بھائی جس مکان میں رہتے تھے وہ ڈھے گیا البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن بقولِ سرکار جو کچھ ہوا مجھ سے برداشت نہیں ہوسکا۔ اب کام کاج بھی نہیں ہے۔ کبھی کبھار کوئی تنظیم یا کیمپ والے مزدوری کا کام دے دیتے ہیں۔ ایسے میں دن سے رات کرنا مشکل ہے۔ اس لیے میں کبھی کبھار اس خیمے میں آپ اور ان جیسے مہربانوں کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑی بہت کھینچ لیتا ہوں۔
آپ یقین نہیں کریں گے مگر پچھلے پندرہ دن میں یہ پہلا سگریٹ ہے جو میں آپ کے آنے کی خوشی میں کھینچ رہا ہوں۔سرکار کی یہ بات سنتے ہی اس کے قریب اکڑوں بیٹھے بادشاہ نے نعرہ لگایا جھوٹے پر خدا کی لعنت۔ سرکار نے بادشاہ کے اس نعرے کو غالباً اپنی حمیت پر حملہ سمجھا۔ اس نے جلتے سگریٹ کو اپنے ہاتھ میں مسل دیا اور یہ کہتا ہوا کھڑا ہوگیا کہ میں اپنے باپ سے نہیں جو آئندہ تمہاری شکل دیکھوں۔ لیکن محمد شفیق اور بادشاہ نے سرکار کے کندھوں پر زور دے کر اسے بٹھا لیا۔ بادشاہ نے سرکار کی تالیفِ قلب کے لیے روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا گاتے ہوئے ایک اور سگریٹ بھرنی شروع کردی اور یوں اس دھواں دھار خیمے کے باسی ایک بار پھر ہنسی خوشی رہنے لگے۔ بادشاہ نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے اس کا تندور تھا جس سے اچھا گذارہ ہوجاتا تھا۔ مگر جس بلڈنگ کے نیچے تندور تھا وہ بلڈنگ ہی گرگئی۔ میں نے بادشاہ سے پوچھا کہ روزانہ کتنی سگریٹیں پی لیتے ہو۔ کہنے لگا کبھی دس کبھی بارہ۔ میں نے پوچھا دکھ کی وجہ سے یا فراغت کے سبب۔ کہنے لگا دکھ کی وجہ سے۔ میری والدہ میرے سامنے دیوار کے نیچے آ گئی اور میں کچھ نہیں کرسکا۔ پہلے لوگ یہاں چوری چھپے اور اکا دکا نشہ کرتے تھے لیکن اب ان کی جھجھک بھی شاید ملبے کے نیچے دب گئی ہے۔ یہ جو سامنے مدرسہ ہے نا۔ کل اس کے مولوی صاحب نے گذرتے ہوئے پوچھا کیا حال ہے بھئی۔ میں نے کہا کہ مابدولت کا چرس پر گذارہ ہےآپ حکم کریں۔ لیکن آج صبح سے میں شرمسار ہوں کہ یہ میں نے بچارے مولوی کو کیا کہا تھا۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ اب آنکھوں کی شرم بھی نہیں رہی۔ شاید زلزلے کی وجہ سے یا شاید چرس کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔اللہ جانے۔ میں نے بادشاہ سے پوچھا آگے کا کیا سوچا ہے۔ کہنے لگا تندور ہی لگائیں گے ذرا موسم ٹھیک ہوجائے۔ ملی تو روزی نہ ملی تو روزہ۔ میں نے پوچھا اگر آپ روزانہ آٹھ دس سگریٹوں کے عادی ہوگئے ہیں تو تندور کیسے چلےگا۔ کہنے لگے جس دن پہلی روٹی تھاپی اس سے پہلے ہی یہ کام ختم۔ لیکن ذرا موسم ٹھیک ہوجائے تو سوچیں گے۔
اس سے پہلے کہ میری بادشاہ سے مزید گپ ہوتی۔ جنابِ عالی ایک بلب لیے اندر داخل ہوئے۔ سب نے تالیاں بجائیں اور جنابِ عالی نے ماچس اور لائٹر کی روشنی میں ہاتھ ہلا کر عوام کے جذبات کو سراہا۔ لیکن بلب ساکٹ میں لگاتے ہی جنابِ عالی کو یہ جان کر صدمہ پہنچا کہ وہ فیوز بلب اٹھا لائے ہیں۔ اس پر عوام نے پھر تالیاں بجائیں۔ جنابِ عالی نے کہا اب تو اندھیرے میں ہی بات کرنا پڑے گی۔ جنابِ عالی کی عمر تیس برس کے لگ بھگ ہے۔انیس سو بانوے میں خلیجی ممالک میں تشریف لے گئے۔ دس بارہ سال محنت مزدوری اور ڈرائیوری کرکے پیسہ جمع کیا۔ دو سال پہلے بالاکوٹ واپس آ گئے۔ جمع پونجی سے مکان بنایا۔ ناران میں ایک ہوٹل ٹھیکے پر لے کر چلانا شروع کیا۔ بقول جنابِ عالی صرف ایک ہی سیزن لگایا تھا کہ زلزلہ آگیا جس میں گھر گیا اور گھر کے ساتھ ہی والدہ، بھابی اور چھوٹا بیٹا بھی چلا گیا۔اب دو بچیاں ہیں جو اسکول میں پڑھتی ہیں۔ جنابِ عالی کا کل ترکہ اب ایک جیپ ہے جو کرائے پر چلتی ہے اور اس سے روزانہ ہزار آٹھ سو کی آمدنی ہوجاتی ہے۔جس میں سے ایک ڈیڑھ سو اس خیمے کے اخراجات ہیں۔ جنابِ عالی کا کہنا ہے کہ چرس وہ پہلے بھی پیتے رہے تھے لیکن دس بارہ سال سے چھوڑ دی تھی۔ مگراب روزانہ ایک سے ڈیڑھ پیکٹ سگریٹ اس خیمے میں یاروں کے درمیان گھوم جاتی ہے۔ بس اللہ نے اتنا کرم کیا کہ کسی کے آگے آج بھی ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئی۔اب سوچ رہا ہوں کہ کچھ عرصے بعد پھر دوبئی یا سعودی عرب نکل جاؤں۔اس لیے کہ یہاں رہ کر تو بس یہی ہوگا جو ہورہا ہے۔ میں نے ان سب مہربانوں سے اجازت چاہی لیکن مجھے بتایا گیا کہ مرشد خیمے کے باہر قربانی کے گوشت کی کڑاہی چڑھا چکا ہے خاص آپ کے لیے۔اب جیسے آپ کی مرضی۔ |
اسی بارے میں تیس نمبر بس10 July, 2005 | قلم اور کالم اور صرف شاعر تو26 June, 2005 | قلم اور کالم ایک ضدی عورت19 June, 2005 | قلم اور کالم کہ ہم غریب ہوئے ہیں03 July, 2005 | قلم اور کالم مدرسوں کے طلباء کی بے دخلی کیوں؟ 07 August, 2005 | قلم اور کالم بیک اپ سپورٹ 21 August, 2005 | قلم اور کالم دوہری شخصیت کا مسئلہ28 August, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||