نسیمہ اور جان کیری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسے تو نسیمہ کے اسکول کی چھٹی روزانہ دوپہر ایک بجے ہوجاتی ہے لیکن آج وہ اپنے جیسے سینکڑوں بچوں کے ساتھ قطار میں مسلسل اکڑوں بیٹھی ہے۔ اس کے خیمہ اسکول کے باہر مسلح پولیس کے سپاہی اور فوجی تین تین گز کے فاصلے سے چوکس کھڑے ہیں اور اسکول کے اندر نسیمہ کی ٹیچر بچوں کو ہر کچھ کچھ دیر بعد پشتو میں سمجھا رہی ہے کہ جیسے ہی مہمان اندر آئیں، کوئی بچہ اپنی جگہ سے نہیں ہلےگا۔ جب اشارہ کروں تو تالیاں بجانی ہیں جب کہوں تو رک جانا ہے۔ ایک دوسرے سے بات نہیں کرنی ہے۔ سوا چار بج چکے ہیں۔ نسیمہ کی آنکھیں اکڑوں بیٹھنے کی تھکن اور نیند کے جھونکوں سے بار بار بند ہورہی ہیں۔ اچانک کہیں سے دو شنوک ہیلی کاپٹر نمودار ہوئے۔انکی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی اسکول کے سٹاف اور باہر کھڑے پولیس والوں اور فوجیوں میں مستعدی کی بجلیاں سی بھرگئیں۔ کوئی ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر دونوں شنوک یکے بعد دیگرے اتر گئے۔ دس منٹ بعد کچھ مسلح کمانڈوز، امریکی فوجی افسر، پاکستانی فوج کے اعلی حکام ، فوٹوگرافرز اور صحافی ناکام امریکی صدارتی امیدوار جان کیری کو اپنے جلو میں لیے اس خیمہ بستی کے اسکول میں داخل ہوئے۔
نسیمہ اور اس کے ساتھ کے سینکڑوں بچوں کی نگاہیں آنے والے مہمانوں کے بجائے اپنی ٹیچر کی طرف ہیں جیسے ہی اشارہ ہوا۔ فضا ننھے منے ہاتھوں کی تالیوں سے گونج گئی۔ جان کیری اور اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر رائن سی کروکر کو اس میز کے برابر کھڑا کیا گیا جس پر بچوں میں تقسیم کرنے کے لیے یونیفارم کے پیکٹ رکھے گئے ہیں۔پیچھے پاک امریکہ دوستی کا بینر لگا ہوا ہے۔ کیمرے مسلسل جان کیری کو فوکس کیے ہوئے ہیں۔انہیں بریفنگ میں بتایا جارہا ہے کہ کس طرح اس کیمپ اور دیگر کیمپوں میں زلزلہ زدگان کو صحت، رہائش، خوراک اور تعلیم کی بھرپور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں اور ان کے سبب کس طرح اب تک جنگلیوں کی طرح پہاڑوں میں زندگی گزارنے والے لوگ جدید دنیا کی سہولتوں اور تہذیب سے پہلی مرتبہ آشنا ہورہے ہیں۔ زلزلے نے جہاں ان لوگوں کو بے گھر کیا وہیں انہیں بیرونی دنیا سے رابطے میں آنے کا بھی موقع دیا ہے۔ بچے اپنے بڑوں کو سکھا رہے ہیں کہ ٹائلٹ کیسے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ وہ تبدیلی ہے جس کے ساتھ جب یہ پناہ گزیں پہاڑوں میں واپس جائیں گے تو امید یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے اسے اور اپنے محسنوں کو یاد رکھیں گے۔ یہ پوری گفتگو اور سوال و جواب کا سیشن جان کیری، امریکی سفیر، کیمپ کمانڈر اور لوکل بریگیڈ کمانڈر کے درمیان جاری ہے۔ متاثرین کا کوئی نمائندہ اس احاطے میں موجود نہیں ہے۔ جان کیری کا متاثرین سے واحد براہ راست رابطہ نسیمہ کی شکل میں ہورہا ہے۔اس چار سالہ گڑیا کو اسکی ٹیچر نے جان کیری کے سامنے کھڑا کردیا ہے تاکہ جان کیری اسکا گال تھپتھپا سکیں اور اپنے ہاتھ سے کیمروں کی کلک کلک میں یونیفارم کا پیکٹ دے سکیں۔ ٹیچر کے ایک اشارے پر فضا بچوں کی آواز سے گونج گئی۔
جان کیری کے ساتھ اسلام آباد سے آئے ہوئے دو پشتو مترجمین نے معزز مہمان کی جانب سے بچوں کا شکریہ ادا کیا اور اسکے ساتھ ہی یہ مہمان غول خیمہ اسکول سے باہر نکل گیا۔ کوئی پانچ منٹ بعد بچوں کو بھی اپنے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مل گئی۔ میں نے دیکھا نسیمہ سب سے آگے خالی ہاتھ اپنے خیمے کی طرف دوڑتی چلی جارہی ہے۔شاید گھر جانے کی خوشی میں وہ اپنے یونیفارم کا پیکٹ بھی اسکول میں کہیں بھول گئی ۔ |
اسی بارے میں بیس ہزار میں کیا ملا03 June, 2005 | قلم اور کالم کونسی معافی تلافی08 May, 2005 | قلم اور کالم ابے انگریز کے بچو12 June, 2005 | قلم اور کالم کہ ہم غریب ہوئے ہیں03 July, 2005 | قلم اور کالم تیس نمبر بس10 July, 2005 | قلم اور کالم تباہ کن خام مال17 July, 2005 | قلم اور کالم بیک اپ سپورٹ 21 August, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||