BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد کی تقسیم کاعمل شفاف ہوگا‘

شوکت عزیز
وزیراعظم شوکت عزیز کے مطابق امدادی رقوم کی تقسیم کے لیےشفاف طریقہ کار اختیار کیا جائےگا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ حکومت زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے فراہم کی گئی مالی امداد کی متاثرین میں تقسیم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنائے گی اور اس امداد کے بین الاقوامی، سرکاری اور نجی کمپنیوں سے الگ الگ آڈٹ کروائے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تحت پاکستان میں زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے دی گئی امداد میں کرپشن کو روکنے اور اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے عنوان سے منعقد کی جانے والی دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی رقوم کی تقسیم کے لیے ایک نہایت ہی شفاف طریقہ کار اختیار کیا ہے۔

ان کے مطابق زلزلے کے بعد ملنے والے ریلیف فنڈ کو نہ صرف وفاقی ریلیف کمیشن کی ویب سائٹ پر ڈالا گیا ہے بلکہ اس بات کی بھی اجازت دی گئی ہے کہ حکومت اس فنڈ کے استعمال کے بارے میں پارلیمان کو بھی جوابدہ ہو گی۔

حکومت کو بین الاقوامی برادری سے چھ اعشاریہ دو بلین ڈالر اور پاکستانی عوام کی طرف سے چھ اعشاریہ چھ ارب روپے زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے عطیے کے طور پر ملے ہیں۔

اسی سلسلے میں ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل نے منگل کو اسلام آباد میں حکومت پاکستان کے تعاون سے دو روزہ ورکشاپ شروع کی جس کے اختتام پر بدھ کو حکومت پاکستان کو عطیات کی شفاف تقسیم کے لیے تجاویز دی جائیں گی۔

ماضی میں پاکسانی حکومت کو کسی بھی سانحے یا مشکل وقت میں ملنے والے عطیات کے بارے میں ہمیشہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے کیونکہ حکومتیں کبھی بھی ان عطیات کے بارے میں عوام کو جوابدے نہیں ہوتی تھیں۔

آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد ملنے والی امداد ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور اس کی شفاف تقسیم کے بارے میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور مقامی تنظیموں نے پارلیمان کو اس سارے عمل کا نگران بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابھی تک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد، بحالی اور تعمیر نو کے تحت بنائے جانے والے اداروں وفاقی ریلیف کمیشن اور ارتھکویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن نامی دو ادارے قائم کیے گئے ہیں جن کے سربراہ حاضر سروس اعلی فوجی افسران ہیں۔

صدر مشرف بھی امداد کی شفاف تقسیم کا کہہ چکے ہیں

پاکستان کے صدر جو فوج کے سربراہ بھی ہیں بارہا کہتے رہے ہیں کہ امداد کی تقسیم میں کوئی کرپشن یا گھپلا نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ امداد کی تقسیم کا عمل شفاف ہو اور عوام کی نظروں کے سامنے ہو۔

ابھی تک زلزلہ زدہ علاقوں سے بھی امداد کی تقسیم یا مکانوں کی تعمیر نو کے تحت بانٹی گئی رقوم میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے مگر ملک کی سیاسی جماعتیں اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے اس سارے امدادی عمل پر کڑی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

اب ذہنی بیماریاں
زلزلے سے متاثرین میں ذہنی بیماریوں کے آثار
زلزلہ پروف سکولزلزلہ پروف سکول
بالاکوٹ میں پری فیبریکیٹڈ سٹیل کا سکول
اجتماعی قبرکی کہانی
گاؤں جو پورے کا پورا دفن ہوگیا
متاثرینزلزلہ:ایک ماہ مکمل
امدادی سرگرمیوں کی رفتار تسلی بخش نہیں
متاثرینایک فراموش وادی
وادی لیپہ سب کی نظروں سے اوجھل کیوں؟
اسی بارے میں
’ہر جگہ امداد نہیں پہنچی‘
12 December, 2005 | پاکستان
امداد کے لیے، سب سے بڑی اپیل
01 December, 2005 | پاکستان
متاثرین: یواین کی مزیدامداد
23 December, 2005 | پاکستان
’امداد اطمینان بخش نہیں‘
04 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد