BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی سرگرمیاں دوبارہ بحال

متاثرین
ان علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ علاقوں میں تین دن کی بارشوں اور برف باری کے بعد بدھ کوموسم صاف ہونے پر امدادی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئی ہیں جبکہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے زمینی امدادی کارروائیاں تقریباً معطل ہیں۔

مظفرآباد میں پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر فاروق ناصر نے بی بی سی کو بتایا متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی پروازوں کے ذریعے خیموں کو ڈھانپنے کے لیے پلاسٹک شیٹس بھیجی جارہی ہیں۔

انھوں نے کہا اس کے علاوہ متاثرین کے لیے مٹی کے تیل پر چلنے والے چولھے ، کمبل ، ٹین کی چادریں بیجی اور بچوں کے لئے گرم کپڑے روانہ کئے جارہے ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے تھا کہ وادی نیلم اور جہلم کو جانے والی سڑکوں کو کھولنے کے لیے فوج کے انجنئیر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وادی جہلم کو جانے والی سڑک کا کچھ حصہ آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا اور یہ کہ کل تک یہ سڑک چکوٹھی تک کھول دی جائے گی۔ البتہ وادی نیلم کو جانے والے سڑک بدستور بند ہے۔

میجر فاروق کا کہنا تھا کہ وادی جہلم کو جانے والی سڑک جہاں تک کھول دی گئی وہاں تک گاڑیوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں اندرونی سڑکوں کے بند ہونے کے باعث اسوقت سینکڑوں دیہاتوں کا پاکستان سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔

حالیہ بارشوں اور برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافے کے باعث متاثرین کی مشکالات میں اضافہ ہوا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں اب بھی ایسے بہت سارے لوگ ہیں جن کو عارضی رہائش کے لئے ٹین کی چادریں نہیں ملی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا چلینج متاثرہ علاقوں میں سولہ لاکھ بچوں کو سردی سے بچانا ہے۔

لوگ سخت موسم کا سامنا کر رہے ہیں

مظفرآباد میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور برف باری کے باعث سردی کی امراض کی شرح میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے اور بڑی عمر کے لوگ سب سے زیادہ متاثرہ ہورہے ہیں ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورت حال قابو میں ہے۔

انہوں نے سردی کے امراض کی شرح میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی کہ متاثریں کے پاس نہ ہی مناسب رہائش ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لئے کوئی معقول انتظام ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی تنظیم یونیسیف کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سارے ایسے بچے ہیں جن کے پاس نہ تو گرم کپڑے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس جوتے ہیں۔

اسی بارے میں
زلزلہ: امدادی پروازیں بحال
04 January, 2006 | پاکستان
عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے
11 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد