عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں جہاں ایک طرف عید جوش و خروش سے منائی گئی وہیں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے اپنی محرومیوں کے ساتھ عید کا دن دیکھا۔ اس عید پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں میں سے بعض نے یہی نعرہ لگایا کہ ان سے حاصل ہونے والی رقوم سے زلزلہ زدگان کی امداد کی جائے گی۔ چندہ کے لیے کی جانے والی اپیلوں کا محور بھی زیادہ تر یہی تھاکہ قربانی کے لیے دی جانے والی امداد سے زلزلہ زدہ علاقوں میں قربانی کا اہتمام کیا جائے گا۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں عید کے موقع پر بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل نظر نہیں آئی اور متاثرین کی عید محرومی کے ساتھ ہی گزری۔ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر کیمپوں میں رہنے والے لوگوں میں تحائف تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی ان علاقوں میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا۔ ان حالات میں مجموعی طور پر لوگوں میں عیدالفطر کی نسبت زلزلہ زدگان کے لیے ہمدردی میں کمی نظر آ رہی ہے۔ بالاکوٹ سے ماسٹر منظور نے بتایا کہ ’بچوں کو غم کا اندازہ نہیں ہوتا اور وہ مختلف خواہشات کا اظہار کر رہے تھے۔ بچے اپنی خوشی میں مگن تھے اور ہم نے اپنی توفیق کے مطابق انہیں خوش کرنے کی کوشش کی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی تنظیموں کا کام بھی بڑی سڑکوں کے کناروں تک محدود ہے اور دور دراز کے علاقوں کی طرف کوئی نہیں جا رہا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||