بکروں کے لیے قطاریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عیدالاضحی پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ایک طرف قربانی کا گوشت پہنچانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تو بعض ادارے ایسے بھی ہیں جن کی خواہش ہے کہ تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود متاثرین عید کے روز خود اپنے اپنے گھروں میں جانوروں کی قربانی کا اہتمام کر سکیں۔ ابھی آپ بالا کوٹ میں داخل نہیں ہوپاتے کہ ایسے بینر اور پوسٹر نظر آنے لگتے ہیں جو مختلف رفاحی اداروں اور این جی اوز کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور ان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عید قربان پر زلزلہ متاثرین کو فراموش نہ کریں اور قربانی کے جانور ان کے ذریعے متاثرین تک پہنچائیں۔ ایسا ہی ایک بینر امہ ویلفیئر ٹرسٹ کا ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر ان کی خیمہ بستی ہے۔ امہ ویلفئر ٹرسٹ کے کارکن قیصر خان نے بتایا کہ چھ سو بھیڑ بکریوں اور چار سو بڑے جانور یعنی گائے بیل وغیرہ پر مشتمل ایک فارم قائم کر لیا گیا ہے جو سارا کا سارا زلزلہ زدگان پر قربان کر دیا جائے گا اور ان کا گوشت پانچ پانچ کلو کے پیکٹ بنا کر زلزلہ زدگان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ قربانی کا گوشت زلزلہ زدگان تک پہنچانے کا انتظام الرحمت ٹرسٹ،الرشید ٹرسٹ، امہ ویلفیئر ٹرسٹ اور ان جیسی متعدد اسلامی این جی اوز نے ابھی سے شروع کر دیا ہے۔
جماعتہ الدعوۃ نے قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے لیے پندرہ سو کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھجوایا ہے البتہ ترکی کی ہلال احمر نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو گوشت کی بجائے زندہ جانور دئیے جائیں اور وہ خود قربانی کرکے گوشت آپس میں بانٹ کھائیں۔ بالاکوٹ میں ان دنوں ترکی کے کیمپ کے پاس متاثرین کا سب سے زیادہ رش دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں قربانی کے جانوروں کی بانٹ کی جا رہی ہے۔ یونین کونسل ست بنی کے ایک گاؤں کے سردار محمد ہارون اسی بیل اور گائے لینے کے لیے لائن میں لگے ہیں۔ سردارمحمد ہارون کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں کے سردار کی حثیت سے آئے ہیں اور اگرچہ وہ خود تو اپنے طور پر بکرے کی قربانی کر رہے ہیں لیکن ان کے گاؤں میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو زلزلے سے متاثر ہیں اور قربانی نہیں کر پائیں گے۔ سردار محمد ہارون اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے جانوروں سے بھرا ایک ٹرک لے جاچکے تھے جبکہ دوسرے کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کو ترکی والوں کی جانب اسی بیل اور گائے دئیے جارہے ہیں۔
ترکی ہلال احمر کا عملہ بھی قریب ہی موجود تھا اور ٹرک سے اترنے والا جو جانور انہیں ذرا کمزور نظر آتا وہ اسے واپس بھجوادیتے۔ بالا کوٹ میں ایسے کئی لوگ دکھائی دئیے جو ایسی فہرستوں میں نام لکھوانا چاہتے ہیں جنہیں قربانی کا گوشت مل پائے گے ۔ بالاکوٹ کے نواحی گاؤں کے عزیز الرحمان بھی ہاتھ میں ایسی ہی درخواست تھامے ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کا چکر لگا رہے تھے۔ متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور اپنے مال مویشی کھو چکے ہیں۔ بعض علاقوں میں شدید سردی میں انہیں غذائی قلت کا بھی سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عید قربان پر ملنے والا گوشت ان کی مشکلات کو ختم تو نہیں کر سکے گا لیکن شدید تکلیف میں ملنے والی چھوٹی سی راحت بھی بعض اوقات بڑی معلوم ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||