BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 05:00 GMT 10:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بکروں کے لیے قطاریں

بالاکوٹ میں قربانی
بالاکوٹ میں قربانی کے جانوروں کی بھیڑ لگنا شروع ہو گئی ہے
عیدالاضحی پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ایک طرف قربانی کا گوشت پہنچانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تو بعض ادارے ایسے بھی ہیں جن کی خواہش ہے کہ تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود متاثرین عید کے روز خود اپنے اپنے گھروں میں جانوروں کی قربانی کا اہتمام کر سکیں۔

ابھی آپ بالا کوٹ میں داخل نہیں ہوپاتے کہ ایسے بینر اور پوسٹر نظر آنے لگتے ہیں جو مختلف رفاحی اداروں اور این جی اوز کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور ان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عید قربان پر زلزلہ متاثرین کو فراموش نہ کریں اور قربانی کے جانور ان کے ذریعے متاثرین تک پہنچائیں۔

ایسا ہی ایک بینر امہ ویلفیئر ٹرسٹ کا ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر ان کی خیمہ بستی ہے۔

امہ ویلفئر ٹرسٹ کے کارکن قیصر خان نے بتایا کہ چھ سو بھیڑ بکریوں اور چار سو بڑے جانور یعنی گائے بیل وغیرہ پر مشتمل ایک فارم قائم کر لیا گیا ہے جو سارا کا سارا زلزلہ زدگان پر قربان کر دیا جائے گا اور ان کا گوشت پانچ پانچ کلو کے پیکٹ بنا کر زلزلہ زدگان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔

قربانی کا گوشت زلزلہ زدگان تک پہنچانے کا انتظام الرحمت ٹرسٹ،الرشید ٹرسٹ، امہ ویلفیئر ٹرسٹ اور ان جیسی متعدد اسلامی این جی اوز نے ابھی سے شروع کر دیا ہے۔

بالاکوٹ میں قربانی
قربانی کے جانور ٹرکوں میں لائے جا رہے ہیں

جماعتہ الدعوۃ نے قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے لیے پندرہ سو کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھجوایا ہے البتہ ترکی کی ہلال احمر نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو گوشت کی بجائے زندہ جانور دئیے جائیں اور وہ خود قربانی کرکے گوشت آپس میں بانٹ کھائیں۔

بالاکوٹ میں ان دنوں ترکی کے کیمپ کے پاس متاثرین کا سب سے زیادہ رش دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں قربانی کے جانوروں کی بانٹ کی جا رہی ہے۔ یونین کونسل ست بنی کے ایک گاؤں کے سردار محمد ہارون اسی بیل اور گائے لینے کے لیے لائن میں لگے ہیں۔

سردارمحمد ہارون کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں کے سردار کی حثیت سے آئے ہیں اور اگرچہ وہ خود تو اپنے طور پر بکرے کی قربانی کر رہے ہیں لیکن ان کے گاؤں میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو زلزلے سے متاثر ہیں اور قربانی نہیں کر پائیں گے۔

سردار محمد ہارون اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے جانوروں سے بھرا ایک ٹرک لے جاچکے تھے جبکہ دوسرے کے انتظار میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کو ترکی والوں کی جانب اسی بیل اور گائے دئیے جارہے ہیں۔

بالاکوٹ میں قربانی
ترکی کی ہلال احمر نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو گوشت کی بجائے زندہ جانور دئیے جائیں۔

ترکی ہلال احمر کا عملہ بھی قریب ہی موجود تھا اور ٹرک سے اترنے والا جو جانور انہیں ذرا کمزور نظر آتا وہ اسے واپس بھجوادیتے۔

بالا کوٹ میں ایسے کئی لوگ دکھائی دئیے جو ایسی فہرستوں میں نام لکھوانا چاہتے ہیں جنہیں قربانی کا گوشت مل پائے گے ۔

بالاکوٹ کے نواحی گاؤں کے عزیز الرحمان بھی ہاتھ میں ایسی ہی درخواست تھامے ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کا چکر لگا رہے تھے۔

متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور اپنے مال مویشی کھو چکے ہیں۔ بعض علاقوں میں شدید سردی میں انہیں غذائی قلت کا بھی سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عید قربان پر ملنے والا گوشت ان کی مشکلات کو ختم تو نہیں کر سکے گا لیکن شدید تکلیف میں ملنے والی چھوٹی سی راحت بھی بعض اوقات بڑی معلوم ہوتی ہے۔

سات ہزارفٹ پرامداد
الائی کے دوردراز گاؤں میں امداد پہنچنا شروع
جلانے کی لکڑیلکڑی بھی مہنگی
متاثرین کیلیے سردی سے بچنا مہنگا ہوگیا۔
ایک زخمی بچہعید کہاں ہے؟
پشاور کے ہسپتال کے ایک وارڈ میں عید
جانور کی کیا اوقات
جانور توگھاس کے پرچی بھی نہیں لے سکتے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد