BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 January, 2006, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عیدالاضحیٰ پر کھالوں کی سیاست

پیشگی اجازت کے بغیر کوئی تنظیم یا ادارہ کھالیں جمع نہیں کر سکےگا
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جہاں ہر معاملے میں سیاسی سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں عید الاضحیٰ میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا مقابلہ رہتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے رفاعی شعبے، مذہبی جماعتیں اور مدارس کھالیں جمع کرنے کی اس دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔

کھالوں کی یہ سیاست ہر سال پرتشدد بن جاتی ہے، جس میں چھیناجھپٹی اور فائرنگ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہر تنظیم اس کا ذمہ دار دوسری جماعت کو قرار دیتی ہے۔

قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہارات بھی دیے جاتے ہیں جبکہ سڑکوں اور گلیوں میں بینر آویزاں کیے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی، متحدہ قومی مومنٹ، سنی تحریک اور دعوت اسلامی، مجلس ختم نبوت، ایدھی فاؤنڈیشن، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے علاوہ مدرسوں اور بھی کئی رفاحی ادارے بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں۔

ماضی کے پرتشدد واقعات کی روشنی میں رواں سال پولیس نے کھالیں جمع کرنے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بنایا ہے جس کے تحت پیشگی اجازت کے بغیر کوئی تنظیم یا ادارہ کھالیں جمع نہیں کر سکےگا جبکہ مرکزی شاہراہوں پر کیمپ قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈی آئی جی کراچی پولیس مشتاق شاہ کے مطابق ہر شہری کو اپنی مرضی سے کسی بھی ادارے یا تنظیم کو کھالیں دینا کا حق ہوگا، کھالوں کی منتقلی کے لیے سکیورٹی فراہم کی جائےگی۔

انہوں نے بتایا کہ جگہ جگہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کے اہلکار موٹر سائیکل سواروں اور کاروں کو روک کر چیکنگ کریں گے اور کسی کو اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم اکثر فریقین پولیس کے ان اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ذمہ دار اور مولانا عبدالستار ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ہر سال پولیس ضابطہ اخلاق بناتی ہے اور چھیناجھپٹی کے واقعات روکنے کے لیے حکمت عملی طے کی جاتی ہے مگر سب کچھ غیر موثر رہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب حالات بہتر تھے تو ان کو چالیس ہزار تک کھالیں ملتی تھیں جو اب گھٹ کر سات آٹھ ہزار رہ گئی ہیں۔ فیصل کا کہنا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن پہلے ایمبولینس سے شہر بھر میں گشت کر کے لوگوں سے کھالیں دینے کی اپیل کرتی تھی لیکن اب بعض مقامات مخصوص کیے گئے ہیں اور جو لوگ عطیے میں کھالیں دینا چاہیں وہاں آ کر دے جاتے ہیں۔

متحدہ قومی مومنٹ کی ذیلی تنظیم خدمت خلق فاؤنڈیشن کے نگران آصف صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں ان کی تنظیم کو سب سے زیادہ کھالیں ملتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے زبردستی نہیں کرتے جو لوگ دینا چاہتے ہیں ان سے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے وزرا ،ارکان اسمبلی اس مہم کی نگرانی کرتے ہیں۔ ایک ماہ قبل اس مہم کی تیاری کی جاتی ہے اور اجلاس ہوتے ہیں۔ عید کے روز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اور ذمہ دار افراد ہر دروازے پر جاتے ہیں اور لوگوں سے سلام دعا کرتے ہیں‘۔

آصف صدیقی نے بتایا کہ کھالوں سے ملنے والی رقم سے کارکنان کی طبی امداد، اسیر اور شہدا کے خاندان کی مدد کے علاوہ بیواؤں کی کفالت کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی سے زبردستی کھالیں نہیں لیتے، تاہم کوئی اکا دکا واقعہ پیش آتا ہے تو کچھ کہا نہیں جاسکتا، کیونکہ ہمارے ہزاروں کارکنان ہیں اور ہر کسی کو روکنا ممکن نہیں ہے‘۔

ایم ایم اے کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ شجیح کے مطابق چرمِ قربان جمع کرنے کے لیے الخدمت کے لگائے گئے بینر اتارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ ہر شہری کو اپنی مرضی سے چرم قربان دینے کا حق ہے اور پولیس کو کسی جماعت کی بی ٹیم کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے‘۔

سنی تحریک کے رہنما سرفراز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے ان کی تنظیم کو تیسرے یا چوتھے نمبر پر کھالیں ملتی تھیں مگر اب تو ان کے لیے ’نوگو ایریاز‘ بنا دیےگئے ہیں۔

کھالیں چھیننے کے طریقہ واردات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’پہلے یہ ہوتا تھا کہ چرم قربان کی گاڑیاں چھین لی جاتیں تھیں مگر اب قربانی کرنے والوں کے پاس جاکر ان کو ہراساں کیا جاتا ہے۔جس میں ایک مخصوص دہشتگرد گروپ ملوث ہے‘۔

جامعہ بنوریہ عالمی کے ترجمان قاری سیف اللہ ربانی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ چھینا جھپٹی کے دس بارہ ہی واقعات ہوتے ہیں۔مگر لوگ مدارس کا لحاظ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے کھالیں جمع کرنے والے کم تھے لیکن اب زیادہ ہوگئے ہیں اس لیے ہر کسی کے حصے میں کم کھالیں آتی ہیں۔

اسی بارے میں
بکروں کے لیے قطاریں
08 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد