BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 January, 2006, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: 16 لاکھ بچوں کو سردی کا سامنا

امدادی ہیلی کاپٹر
موسم کی وجہ سے پروازوں میں مشکلات ہیں
پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے کہا ہے کہ اس وقت زلزلے سے متاثر ہونے والے سولہ لاکھ بچوں کو سخت سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے رابطہ کار جان وینڈ مورٹیل اور دیگر اہلکاروں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے بار بار اس بات پر زورد یا کہ آئندہ ہفتوں میں کمبل، رضائیوں اور گرم کپڑوں کی شدید ضرورت ہوگی اور تمام امدادی تنظیموں اور حکومتِ پاکستان کو مشترکہ حکمت عملی اور پائیداری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

جان وینڈ مورٹیل نے بتایا کہ پہلے ان کی توجہ پانچ ہزار فٹ یا اس سے زیادہ کی بلندی پر رہنے والے لوگوں کے طرف تھی لیکن اب وہ اپنی توجہ بکھرے ہوئے ایک سو کیمپوں کی طرف موڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی کے قائم کردہ ان خودرو کیمپوں میں دو لاکھ زلزلہ زدگان رہائش پذیر ہیں اور انہیں سردی سے بچانے کے فوری انتظامات کرنے ہوں گے۔

ایک سوال پر یونیسیف کے نمائندے عمر عابدی نے بتایا کے ان کے محتاط اندازے کے مطابق زلزلے کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد دس سے پندرہ ہزار ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق آئندہ چند روز میں شروع ہونے والی برفباری اور بارش کی وجہ سردی میں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ پہاڑوں سے نیچے آنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور اس خدشے کے پیش نظر انہوں نے ساٹھ ہزار افراد کی گنجائش والے کیمپ کا بھی انتظام کرلیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندو ں نے بتایا کہ پینتیس لاکھ زلزلہ زدہ افراد جن میں سولہ لاکھ بچے بھی شامل ہیں، ان میں سے کئی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ لیکن ان کے مطابق تاحال وبائی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سردی کی نئی لہر سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ موجود ہے اور اسے روکنے کے لیے کڑی نگرانی اور مطلوبہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

عالمی ادارہ خوراک کے نمائندے فلپ کلارک نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ دس لاکھ متاثرین کو مستقل خوراک پہنچانے کا ذمہ دار ہے اور روزانہ دس ہزار ٹن خوراک مختلف علاقوں تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق آج تک دنیا کے کسی ملک میں اقوام متحدہ نے اس بڑے پیمانے پر فضائی امداد فراہم نہیں کی اور پاکستان میں دس لاکھ زلزلہ زدہ افراد کی خوراک کی ذمہ داری پوری کرنا ان کے لیے ایک نیا اور بڑا تجربہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر انہوں نے ننانوے ٹن کھجور بیس کلو گرام فی خاندان کے حساب سے متاثرین میں تحفے کے طور پر تقسیم کی ہیں۔

جان وینڈ مورٹیل کے مطابق اقوام متحدہ کو تاحال زلزلہ زدہ افراد کی امداد کے لیے اپیل کردہ پچپن کروڑ ڈالر کی رقم میں سے بتیس کروڑ دس لاکھ ڈالر ملے ہیں جوکہ ان کے مطابق مطلوبہ رقم کا اٹھاون فیصد بنتی ہے۔

انہوں نے عالمی امدادی اداروں سے ملنے والی امداد پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ رفتار اور مقدار سے انہیں امداد ملتی رہی تو وہ امدادی کام احسن طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ روزانہ اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے اخراجات بیس لاکھ ڈالر بتائے گئے ہیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر پر ماہانہ دس لاکھ ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

پاکستان زلزلے کے بعد
تعمیر نو کیلیے چار سال اور 180 ارب روپے
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
متاثرہ علاقوں میں
کیا خیموں کی شادیاں موخرنہیں کی جاسکتیں؟
زلزلہ زدہ بچے
نمونیا اور سانس کی تکلیف کے شکار
اسی بارے میں
عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے
11 January, 2006 | پاکستان
زلزلہ: سردی سے 18 بچے ہلاک
05 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد