ایک اجتماعی قبر کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کہانی ہے ضلع مظفر آباد کی تحصیل ہٹیاں بالا کی یونین کونسل چکار کے ایک گاؤں لودھی آباد کی جو آٹھ اکتوبر کی صبح پونے نو بجے اس کرہِ ارض سے غائب ہوگیا۔ یہاں کوئی زخمی نہیں ہوا۔بس یہ ہوا کہ سارے گھر اور اس وقت وہاں موجود دو سو سینتالیس عورتیں مرد اور بچے دفن ہوگئے۔اس لحاظ سے لودھی آباد کو آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے نتیجے میں بننے والی سب سے بڑی اجتماعی قبر بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس گاؤں کے چوراسی افراد اس وقت گاؤں میں نہیں تھے اس لئے وہ زندہ ہیں۔شازیہ اس لئے بچ گئی کہ وہ کوئی ایک کلومیٹر پرے پہاڑی نالے پر کپڑے دھو رہی تھی۔شدید جھٹکے تھمنے کے بعد جب وہ گاؤں کی طرف بھاگی تو گاؤں ہی نہیں تھا۔ ہٹیاں بالا میں ایک وکیل کے دفتر میں کام کرنے والے منشی آزاد کا خاندان واحد خوش قسمت کنبہ ہے جس کے آٹھ ارکان زندہ رہ گئے۔جانے کیسے اسکی بیوی اور ایک لڑکا پہاڑی تودے میں پورے دفن ہونے سے بچ گئے اور خود ہی سے باہر نکل آئے جبکہ آزاد کی بہو، بہن ، ایک بیٹی اور ایک پوتی گاؤں سے کچھ فاصلے پر اپنے مویشیوں کی نگرانی کرتے کرتے دور نکل گئے اور پھر چلتے ہی چلے گئے۔ ایک بیٹا پولیس ڈیوٹی پر کہیں اور تھا۔البتہ آزاد کی پانچ بیٹیاں اور ایک پوتی کی لاش اب بھی کوئی ڈھائی سو فٹ بلند پہاڑی ملبے کے نیچے دبے سکول میں کہیں ہوگی۔ لودھی آباد کا عبدالرشید ہٹیاں بالا کے ایک خیمے میں پڑا خود کو کوستا رہتا ہے کیونکہ اسکے گھر کے تیرہ کے تیرہ لوگ زندہ دفن ہوگئے اور وہ خود اس لئے بچ گیا کیونکہ کام کاج کے لئے صبح سویرے ہی شہر روانہ ہوگیا تھا۔ آزاد کا کہنا ہے کہ انہیں صرف تین چار لاشیں ملیں وہ بھی انکے گاؤں کی نہیں تھیں بلکہ پہاڑی تودے کی زد میں جزوی طور پر آنے والے تین دوسرے دیہاتوں بھیل، بھٹ سیر یا نینا میں سے کسی جگہ کی تھیں۔آزاد کی ایک سو ستائیس کنال زرعی زمین تھی وہ بھی دو نالوں کے سنگم پر لودھی آباد کے اوپرگرنے والے پہاڑ کے نیچے غائب ہوگئی۔ ان نالوں کا راستہ رکنے کے سبب اب نومولود پہاڑ کے دونوں جانب جھیلیں بن رہی ہیں اور اگر یہ پانی اسی طرح جمع ہوتا رھا تو کچھ عرصے بعد بیس کلومیٹر دور واقع ہٹیاں بالا کے قصبے سے بھی سینکڑوں خاندانوں کو کہیں اور منتقل کرنا پڑے گا۔ لودھی آباد کے بالمقابل پہاڑ پر واقع گاؤں بنی حافظ کے مکیں محمد اشفاق ظفر نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر سے پہلے ہمیں سامنے والے پہاڑ پر واقع گاؤں تک جانے کے لئے پہلے نیچے وادی میں اترنا پڑتا تھا۔پھر ایک نالہ عبور کرنا پڑتا تھا اور یوں یہ تقریباً دوگھنٹے کا پیدل سفر بن جاتا تھا۔اب چونکہ وادی پہاڑی ملبے سے بھر گئی ہے اس لئے آرپار آرام سے پینتالیس پچاس منٹ میں پہنچا جاسکتا ہے۔لیکن اس طرف جائیں بھی تو کس کے پاس وہاں تو کچھ ہے ہی نہیں۔ | اسی بارے میں ’دو ماہ بعد ملبے سے زندہ برآمد‘12 December, 2005 | پاکستان ’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘16 January, 2006 | پاکستان دریا کنارے گھر نہ بنائیں: ماہرین 18 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||