BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دریا کنارے گھر نہ بنائیں: ماہرین

عمارت
مروجہ تعمیری اصول اپنانے سے زلزلے سے ہونے والا نقصان اسی فی صد کم ہوتا
پاکستان اور چین کے ماہرین ارضیات نے زلزلہ زدہ علاقوں کا سروے مکمل کر لیا ہے جس میں حکومت کو تجویز دی گئی کہ آئندہ کسی بھی زلزلہ زدہ علاقے میں دریا کے کنارے عمارتیں اور گھر تعمیر نہ کیے جائیں کیونکہ زلزلے سے ان علاقوں کی زمین بھربھری ہو گئی ہے اور اپنی طاقت چھوڑ چکی ہے۔

چائنا سیسمولوجیکل بیورو اور پاکستان میٹیورولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کے سروے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کی زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اگر دریائے جہلم یا نیلم کے مشرقی کناروں پر تعمیر کی گئی تو یہ آئندہ زلزلے میں بھی گر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے علاقے مظفرآباد کی زیادہ تر عمارتیں خصوصا ہوٹل، سرکاری دفاتر اور دوکانیں دریائے نیلم کے مشرقی کنارے پر تعمیر کی گئی تھیں۔

پاکستان اور چینی ماہرین ارضیات نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں جن عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ان کو بھی دوبارہ گرا کر تعمیر کرنا ہو گا۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر زلزلے سے بچاؤ کے مروجہ تعمیری اصولوں کے مطابق کی جاتی تو اس زلزلے میں ہونے والا جانی نقصان اسی فی صد تک کم ہوتا۔

آٹھ اکتوبر کو آنے والے اس زلزلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تہتر ہزار افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

سروے میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرے کہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر سے قبل اس علاقے کا سیسمک سروے کروا لیں۔

زلزلے سے ملک میں بڑی تباہی مچی

سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ پہاڑوں کے کناروں پر کسی قسم کی تعمیر نہ کی جائے اور کثیر المنزلہ عمارتیں، ہوٹل، سکول اور سرکاری عمارتیں بھی دریا کے کناروں کے بجائے میدانی علاقوں میں تعمیر کی جائیں۔

ماہرین ارضیات نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ اپنے گھروں پر بھاری لینٹر نہ ڈلوائیں۔

ماہرین اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا مائکرونائزیشن سروے کر رہے ہیں تاکہ اسلام آباد میں بھی تعمیر کے لیے نئے بلڈنگ کوڈز بنائےجائیں۔

برفباری میں چیپ پر سامان کی ترسیلدو ماہ بعد
بحالی کے خواب کو میں شائد سالوں لگیں
امریکی ڈالرچالیس کروڑ ڈالر
زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے عالمی بینک کا قرضہ
زلزلہ زدہ بچے
نمونیا اور سانس کی تکلیف کے شکار
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
اسی بارے میں
زلزلہ: امدادی پروازیں بحال
04 January, 2006 | پاکستان
عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے
11 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد