دریا کنارے گھر نہ بنائیں: ماہرین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور چین کے ماہرین ارضیات نے زلزلہ زدہ علاقوں کا سروے مکمل کر لیا ہے جس میں حکومت کو تجویز دی گئی کہ آئندہ کسی بھی زلزلہ زدہ علاقے میں دریا کے کنارے عمارتیں اور گھر تعمیر نہ کیے جائیں کیونکہ زلزلے سے ان علاقوں کی زمین بھربھری ہو گئی ہے اور اپنی طاقت چھوڑ چکی ہے۔ چائنا سیسمولوجیکل بیورو اور پاکستان میٹیورولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کے سروے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کی زمین میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اگر دریائے جہلم یا نیلم کے مشرقی کناروں پر تعمیر کی گئی تو یہ آئندہ زلزلے میں بھی گر سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے علاقے مظفرآباد کی زیادہ تر عمارتیں خصوصا ہوٹل، سرکاری دفاتر اور دوکانیں دریائے نیلم کے مشرقی کنارے پر تعمیر کی گئی تھیں۔ پاکستان اور چینی ماہرین ارضیات نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں جن عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ان کو بھی دوبارہ گرا کر تعمیر کرنا ہو گا۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر زلزلے سے بچاؤ کے مروجہ تعمیری اصولوں کے مطابق کی جاتی تو اس زلزلے میں ہونے والا جانی نقصان اسی فی صد تک کم ہوتا۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے اس زلزلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تہتر ہزار افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سروے میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرے کہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر سے قبل اس علاقے کا سیسمک سروے کروا لیں۔
سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ پہاڑوں کے کناروں پر کسی قسم کی تعمیر نہ کی جائے اور کثیر المنزلہ عمارتیں، ہوٹل، سکول اور سرکاری عمارتیں بھی دریا کے کناروں کے بجائے میدانی علاقوں میں تعمیر کی جائیں۔ ماہرین ارضیات نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ اپنے گھروں پر بھاری لینٹر نہ ڈلوائیں۔ ماہرین اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا مائکرونائزیشن سروے کر رہے ہیں تاکہ اسلام آباد میں بھی تعمیر کے لیے نئے بلڈنگ کوڈز بنائےجائیں۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||