الرحمت ٹرسٹ کے گودام پر چھاپہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سیکورٹی فورسز نے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والے ایک مذہبی ادارے ’الرحمت ٹرسٹ‘ کے صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور میں واقع ایک گودام پر چھاپہ مارکر رضاکاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر ریلیف مفتی عصمت اللہ نے بی بی سی کو فون کرکے اس کارروائی کے بارے میں مطلع کیا اور دعویٰ کیا کہ ایک خفیہ ادارے نے ان کے گودام سے چار ٹرک امدادی سامان، بیس لاکھ روپے نقد اور پندرہ افراد کو اٹھا لیا ہے۔ اس بارے میں جب ہری پور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عبدالمجید آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی خفیہ اداروں نے کی ہے اور کارروائی کے بعد مقامی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ گودام پر پہرہ لگائیں اور کسی کو اندر جانے نہ دیں۔ پولیس افسر نے مزید کچھ بھی بتانے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں باقی کتنے افراد پکڑے گئے اور کیا سامان اٹھایا گیا اس بارے میں انہیں کچھ علم نہیں۔
اس بارے میں ٹرسٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات وقار الہٰی سے جب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ زلزلہ زدہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تقسیم کے ساتھ ساتھ تاحال ڈیڑھ سو مساجد تعمیر کرچکے ہیں اور متاثرین کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینے کے لیے وعظ بھی کرتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے زلزلہ زدہ علاقوں میں جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں روکنے کا کہا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی حکام نے آٹھ اکتوبر کے شدید ترین زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی کسی جہادی تنظیم سے مبینہ طور پر وابستہ ادارے کے خلاف باضابطہ طور پر کارروائی کی ہے۔ وفاقی حکومت کے ترجمان شیخ رشید احمد سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ، وزیر مملکت شہزاد وسیم اور سیکریٹری داخلہ کمال شاہ سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن تاحال ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ الرحمت ٹرسٹ کے ریلیف کے متعلق ڈائریکٹر مفتی عصمت اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے گرفتار شدہ پندرہ رضاکاروں میں تین اہم عہدیدار رشید احمد کامران، آصف قاسمی اور قاضی حنیف جان بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے، ستر ہزار سے زیادہ ہلاک اور اس بھی زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں بعض دیگر زیر مشاہدہ قرار دی گی تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں مصروف رہی ہیں۔ جن میں الرشید ٹرسٹ، جماعت الدعوۃ بھی شامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت الرحمت ٹرسٹ کے ساتھ دیگر تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان ماضی کا بوجھ یا حال کی حقیقیت22 July, 2005 | پاکستان کیا کریک ڈاؤن میں کامیابی ہو گی؟20 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||