BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 February, 2006, 07:24 GMT 12:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کی ناکہ بندی، کرفیو کا سماں

چودہ فروری کو بھی لاہور میں مظاہرے ہوئے تھے
کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پورے پاکستان میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد پولیس اور رینجرز کے گھیرے کو توڑ کر شان مصطفے ریلی میں شرکت کے لیے ناصر باغ تو نہیں جاسکے لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کے مرکز منصورہ کے سامنے سڑک پر کارکنوں سے خطاب کیا جس میں پولیس نے خلل نہیں ڈالا۔

پولیس اور رینجرز نے نصف شب سے پورے لاہور شہر میں جگہ جگہ ناکے لگا کر شان مصطفیٰ ریلی کے اعلان کردہ راستے کو جانے والی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی تھیں۔ یورپ میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف شانِ مصطفیٰ ریلی کا انعقاد متحدہ مجلس عمل نے کیا تھا۔

نماز ظہر کے بعد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں موجود دو ڈھائی سو افراد قاضی حسین احمد کو لے کر مرکزی دروازہ سے باہر نکل آئے۔ جماعت کے کارکنوں نے پولیس کو دھکے دیے اور ان کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی۔ تاہم پولیس نے ذرا پیچھے ہٹ کر انہیں سڑک پر آنے کا موقع دیا۔

جماعت اسلامی کے کارکن سڑک (ملتان روڈ) پر بیٹھ گئے جسے دونوں طرف سے ٹریفک کے لیے رات سے بند کردیا گیا ہے۔ اسی جگہ جماعت اسلامی کے کارکنوں اور قاضی حسین احمد نے مجمع سے خطاب کیا۔

دوسری طرف، شہر کے دوسرے حصوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جتھوں کی صورت میں مختلف مقامات پر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جہاں ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔

مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کارکن ایک قریبی گلی سے نکل کر مسجد شہدا کی طرف بڑھے۔ انکے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھر پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی اور سو سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

اچھرہ میں جہاں جماعت اسلامی سے وابستہ طلبا تنظیم کا مرکزی دفتر ہے کچھ مظاہرین سڑک پر نکلے تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد کو گرفتار کیا۔

دوسری طرف راولپنڈی پولیس نے قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن کو لاہور میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے احتجاجی جلسے میں شرکت کرنے سے روک دیا۔

پنجاب حکومت نےمولانا فضل الرحمن پر سات روز کے لیے صوبہ میں داخل ہونے کی پابندی لگادی ہے جس کے احکامات انہیں رات کو پارلیمینٹ لاجز میں دیے گئے۔

پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور تحریک جعفریہ کے سربراہ ساجد نقوی پر بھی لاہور میں داخلہ پر پابندی لگادی گئی ہے۔

تاہم پنجاب کےوزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ مخدوم امین فہیم پر پنجاب یا لاہورمیں آنے پر پابندی نہیں لیکن وہ ریلی میں شرکت نہیں کرسکتے کیونکہ قانون کے مطابق اس پر پابندی ہے۔

لاہور

لاہور کے بیشتر علاقوں میں اس وقت ایک غیراعلانیہ کرفیو کا سماں ہے جہاں عام لوگوں کی آمد ورفت بند کردی گئی ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے یورپی میڈیا میں چھپنے والے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف احتجاج کے طور پر حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے تعاون سے آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے ناصر باغ سے ایک جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا جسے اسمبلی ہال تک جانا تھا۔

صبح ہی سے پورے شہر میں گلے میں بندوق لٹکائے ایلیٹ پولیس اور رینجرز کے جوان شہر کی بڑی سڑکوں اور چوکوں پر تعینات ہیں اور انہوں نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہوئے ہیں۔ شہر میں ہفتہ وار تعطیل کےباعث دکانیں اور بازار بند ہیں۔

لاہور سکیورٹی
ایم ایم ریلی کےموقع پر حفاظتی اقدامات

شہر سے ملتان جانے والی شاہراہ پاکستان جس کے راستے میں جماعت اسلامی کامرکز منصورہ ہے اسے ٹریفک کے لیےبند کردیا گیا ہے۔ راوی پل، سگیاں پل اور کاہنہ میں بھی پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی، بڑے دینی مدرسوں جیسے جماعت الدعوۃ کے مرکز قادسیہ اور دیگر کالجوں جیسے سائنس کالج اوراسلامیہ کالج سول لائنز وغیرہ کے باہر بھی پولیس نے ناکے لگائے ہوئے ہیں اور رینجرز کی بھاری نفری بھی پہرہ دے رہی ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

جماعت کے مرکز منصورہ کو چاروں طرف سے پولیس اور رینجرز نے گھیرے میں لیا ہے اوراس کے اندر اور باہر جانے کے راستے بند کردیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد منصورہ کے اندر تین دن سے نظر بند ہیں۔

پولیس اور رینجرز کے جوان بڑی تعداد میں شہر کی ہر سڑک اور چوک پر کھڑی ہیں۔ مال روڈ، سول سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس اور ناصر باغ جانے والے تمام راستے ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔

پولیس اور رینجرز کے دستے پورے شہر کا گشت کررہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں ارو ویگنیں سڑکوں پر بہت کم ہیں اور ان کے روٹس کی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو راستے میں چھوڑ کر واپس جارہی ہیں۔

لاہور میں آنے والے تمام سڑک کے راستوں، ریلوے سٹیشنوں اور ائیرپورٹ پر پولیس کا کڑا پہرہ ہے۔

گزشتہ دو دن سے پولیس مختلف شہروں میں مسلم لیگ (ن) اورجماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر درجنوں افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔

راولپنڈی

راولپنڈی پولیس نے قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن کو لاہور میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے احتجاجی جلسے میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے۔

فضل الرحمن
مولانا فضل الرحمن کو لاہور جانے سے روک دیا گیا۔

راولپنڈی پولیس لائنز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لاہور جانے کے لیئے آج صبح جب اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچے تو وہاں راولپنڈی کے ایس ایس پی بھاری پولیس نفری کے ساتھ ائیرپورٹ پر موجود تھے جنہوں نے انھیں اپنی تحویل میں لے کر پولیس لائنز لے گئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ پولیس ان کو اس وقت تک تحویل میں رکھےگی جب تک لاہور کی تمام پروازیں روانہ نہیں ہو جاتیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ان کے واپس پارلیمنٹری لاجز جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ادھر اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ لاہور کو آج مکمل طور پر سیل کیا جا چکا ہے اور پولیس نے سینکڑوں سیاسی و دینی جماعتوں کے کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو پولیس کی تحویل میں لیئے جانے کے بعد وہ اے آر ڈی اور ایم ایم اے کی قیادت سے بات چیت کے بعد اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ لاہور جانے کی کوشش کی جائے یا نہیں۔

اسی بارے میں
قاضی حسین احمد پھر نظر بند
24 February, 2006 | پاکستان
پاکستان بھر میں شدید احتجاج
14 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد