’درجنوں ہلاک، ہزاروں کی نقل مکانی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سرکاری ذرائع کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں کم از کم اسّی افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین فوجی بھی شامل ہیں۔یہ جھڑپیں میران شاہ اور میرعلی کے علاقوں میں سنیچر کی شام ہوئیں جس میں فریقین نے بھاری اسلحہ استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق میران شاہ کا ٹیلیفون ایکسچینج بھی لڑائی میں تباہ ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب خیبر رائفلز کے لوگوں پر حملہ کیا گیا جو میر علی جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میران شاہ سے امداد پہنچی اور جھڑپ میں اکیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میران شاہ میں بھی لڑائی شروع ہو گئی جہاں حملہ آوروں نے ٹیلیفون ایکسچینج پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان جھڑپوں کی وجہ گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کی ایک کارروائی بتائی جا رہی ہے جس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مشتبہ شدت پسندوں نے ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے نیم فوجی دستوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا جس کو موجودہ لڑائی کا باعث بتایا گیا ہے۔ میر علی کے علاقے میں ایک مقامی صحافی احسان اللہ نے بتایا کہ رات بھر میزائیلوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلیفون کا رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے درست صورتحال کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو ’حکومت لائنیں خراب کر دیتی ہے‘۔ احسان اللہ نے بتایا کہ میران شاہ کی تقریباً تمام آبادی نقل مکانی کر کے پشاور، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں بوڑھے، بچے اور خواتین علاقے سے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی کارروائی کے بعد لوگوں پر خوف طاری تھا۔ احسان اللہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیوں کے دوران پہاڑوں سے داغے جانے والے گولے گھروں پر گرتے ہیں جس سے جانی نقصان ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی فوجی کارروائی کے دوران بھی ہسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچا اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ وزیرستان میں مشتبہ شدت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان اب تک کی سب سے شدید لڑائی تھی۔ اس دوران ہونے والا جانی نقصان بھی اب تک کا وزیرستان میں ایک دن میں سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے بتایا کہ مقامی صحافیوں کو لوگوں سے معلوم ہوا ہے نیم فوجی دستوں کے دفتر کے باہر لاشیں بکھری پڑی ہیں تاہم ان اطلاعات کی تصدیق مشکل تھی۔ میران شاہ کا ٹیلیفون ایکسچینج بھی لڑائی میں تباہ ہو گیا۔ میر علی کے قریب زڑا میلہ کے علاقے میں جھڑپ میں بیس کے قریب حملہ آور ہلاک ہوئے۔ ٹیلیفون کے منقطع ہونے سے وہاں کی صورتحال جاننے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ان تازہ جھڑپوں کے بارے میں قبائلیوں کا موقف بھی واضع نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق شدت پسند حکومت سے میران شاہ قلعہ خالی کرنے اور فوج کو شہر سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ حکومت نے شدت پسندوں کو شہر سے چلے جانے کے لئے کہا تھا۔ مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے حکومت اور قبائلیوں کے درمیان بظاہر رابطے بھی منقطع رہے۔ اس کی ایک وجہ میران شاہ کے ایک مدرسے دارالعلوم گلشن کے مہتمم مولوی عبدالخالق کی جانب سے جمعہ کے روز لگائی جانے والی قبائلی ملکوں پر پولیٹکل ایجنٹ سے ملاقات پر پابندی ہے۔ مولوی عبدالخالق نے پشاور سے شائع ہونے والے تین اردو اخبارات کی شمالی وزیرستان میں فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ اس اقدام کی وجہ ان اخبارات میں اس سرکاری بیان کا شائع ہونا تھی جس میں مولانا عبدالخالق کو جمعرات کے روز سرکاری دفاتر پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں میران شاہ جھڑپیں، تئیس ہلاک04 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: کشیدگی کے بعد جھڑپیں04 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں جھڑپیں جاری03 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں جھڑپیں جاری03 March, 2006 | پاکستان قبائلی علاقے میں کارروائی، تیس ہلاک01 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی میں 45 ہلاک01 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||