BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 March, 2006, 12:48 GMT 17:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی میں 45 ہلاک

میران شاہ
وزیراستان میں فوجی آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے
پاکستان فوج نے ایک آپریشن میں پینتالیس کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں کئی غیر ملکی شامل ہیں۔

پاکستان فوج کے ایک بیان کے مطابق خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک چیچن کمانڈر بھی شامل ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے نے کہا ہے کہ جس مکان پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے وہاں زیادہ تر غیر ملکی چھپے ہوئے تھے۔

حملے میں ایک فوجی بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے گاؤں ڈانڈے سیدگئی سے تھوڑا باہر پہاڑوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ایک کیمپ کے خلاف بدھ کی صبح سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا ہے۔

کارروائی کے ردعمل میں میران شاہ کے قریب نیم فوجی ملیشیا کی چوکیوں پر نامعلوم افراد نے حملے کیئے ہیں۔ تاہم ان تازہ جھڑپوں میں ہلاک یا زخمیوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

سیدگئی سے میران شاہ لائے جانے والے دو زخمیوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں ایک درجن سے زائد مکانات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان زخمیوں میں سے ایک بیس سالہ شبیر خان نے بتایا کہ ایک مسافر گاڑی پر فائرنگ سے ایک عورت بھی ہلاک ہوئی ہے۔

شمالی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ کارروائی مقامی وقت کے مطابق آج صبح سات بجے شروع ہوئی جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر اور زمینی دستوں نے حصہ لیا۔

ان کے بقول اس کیمپ میں اطلاعات کے مطابق متشبہ شدت پسندوں میں چیچن، ازبک، تاجک اور افغان بھی شامل تھے۔

میران شاہ میں فوجی کارروائی
میران شاہ میں لوگ فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے قبائلی کی لاش دیکھ رہے ہیں

حکام کے مطابق اس کیمپ میں اسلحے کا ایک ذخیرہ بھی تھا جو نشانہ بنا ہے جس وجہ سے دو گھنٹوں تک دھماکوں کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔ بڑی تعداد میں اسلحہ قبضے میں بھی لیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس کیمپ سے شدت پسند سرحد پار افغانستان اور وزیرستان کے اندر بھی تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کی شناخت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے خاتمے پر ہی معلوم ہوسکے گا۔

سیدگئی میں کارروائی کے چند گھنٹوں بعد صدر مقام میران شاہ کے قریب ڈانڈے درپہ خیل، درپہ خیل سرائے اور خٹی کلی کے علاقوں میں نیم فوجی ملیشیا کی چوکیوں پر نامعلوم افراد نے حملے کیئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کارروائی کے بعد جھڑپوں میں ایک بچہ اور ایک قبائلی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرگردان چوکی سے ایف سی کے آٹھ اہلکاروں کو اغوا کرنے کی بھی اطلاعات تھیں جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا ہے۔

تازہ کارروائی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب گورنر سرحد خلیل الرحمان نے گزشتہ ہفتے ہی میران شاہ کے دورے کے دوران فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس بارے میں پولیٹکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں تقریبا دو ماہ سے معطل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مقامی قبائل کو بتا رکھا ہے کہ کسی غیرملکی کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر یہ کارروائی بہت ضروری ہوجاتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جارج بش آئندہ چند روز میں پاکستان کا دو روزہ دورہ کریں گے۔

اسی بارے میں
وزیرستان: ایک فوجی ہلاک
30 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد