’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدرجنرل پرویز مشرف نے ایک امریکی ٹی وی نیٹ ورک کوایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے ارکان کو پکڑنے کی کوششیں سنجیدگی سے جاری ہیں۔ اے بی سی ٹی وی نے جنرل مشرف کے ساتھ یہ انٹرویو امریکی صدر بش کی بھارت اور پاکستان کے دورے پر روانگی کے موقع پر کیا۔ صحافی مارتھا ریڈیٹز نے صدر مشرف سے پہلے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سے متعلق پوچھا کہ’ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے اسامہ کو پکڑنے کی پوری کوشش نہیں کی ہے اور اگر آپ ان کو گرفتار کرنا چاہتے تو یہ مشکل نہ ہوتا‘۔ صدر مشرف نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے لیکن ہم پوری فوج کو تو ان کے پیچھے پہاڑوں میں نہیں بھیج سکتے ۔ پھر بھی وہ القاعدہ کے لیڈر ہیں اور انہیں پکڑنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے‘۔ اس سوال پر کہ امریکی اہلکار کے مطابق وہ طالبان کے خلاف کارروائی میں بھی سنجیدہ نہیں اور کیا انہوں نے طالبان کے کسی اہم فرد کو پکڑا ہے، صدر مشرف نے کہا ’ہم نے تو حال میں، تقریباً تین ماہ پہلے طالبان کے ترجمان کو گرفتار کیا تھا اور اسے افغانستان کے حوالے کر دیا تھا۔ اس شخص کا کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا لیکن وہ طالبان کا ترجمان تھا، بیانات جاری کرتا تھا، انٹرویو دیتا تھا‘۔ پاکستان سے خود کش بمباروں کی بھرتی اور ان کی جانب سے افغانستان جا کر دھماکے کرنے سے متعلق سوال پر صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ اس بات کی کوئی تردید نہیں کر رہا کہ القاعدہ کے افراد ہمارے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ یہ عناصر یہاں موجود ہیں اور میں نے صدر کرزئی اور امریکیوں سے کہا ہے کہ ہمیں سرحد پر باڑ لگا دینی چاہیے اور سرحد پر بارودی سرنگیں لگانی چاہییں۔ یہ مشکل نہیں ہے۔ میں نے یہ تجویز دوبارہ بھی دی ہے‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ ’ہمارے پچاس ہزار فوجی اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور ہماری چار سو ہلاکتیں ہوئی ہیں‘۔ |
اسی بارے میں امریکی حملے نہ ہوں: مشرف21 January, 2006 | پاکستان جنرل مشرف کی ’ریفیولنگ‘07 December, 2004 | قلم اور کالم بش اور مشرف کی آٹھویں ملاقات 04 December, 2004 | پاکستان وانا آپریشن جاری رہے گا27 March, 2004 | پاکستان ’پاکستان بڑا امریکی حلیف‘ 18 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||