BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ فوجی، 46 ’شرپسند‘ ہلاک

گزشتہ چند دنوں میں میران شاہ میں نوے سے زائد افراد مارے گئے ہیں
پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں چار مارچ کو ہونے والی مسلح جھڑپوں میں 46 ’شرپسند‘ اور پانچ سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دو مارچ کو ہونے والی مسلح جھڑپوں میں بھی ایک چیچن کمانڈر اور پینتیس غیرملکیوں سمیت 46 ’شرپسند‘ ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک فوجی بھی مارا گیا تھا۔

اتوار کی شام راولپنڈی میں فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے میں دی گئی بریفنگ میں شوکت سلطان نے بتایا کہ اتوار کے روز مارے جانے والے ’شرپسندوں میں غیرملکیوں کے تعداد کا فی الوقت اندازہ نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ ان میں کوئی سرکردہ القاعدہ یا طالبان کا رہنما شامل ہے۔‘

البتہ انہوں نے کہا کہ ان جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے امکان کو رد تو نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بھی نہیں بتایا جاسکتا کہ کتنے شہری مارے گئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ریڈار اور جدید اسلحہ استعمال کرتی ہے جبکہ شرپسندوں کے پاس بھی راکٹ اور بھاری اسلحہ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ جن شہری آبادی والی جگہوں سے ’شرپسند‘ سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں فوج ان ہی جگہوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
میجر جنرل شوکت سلطان نے دعویٰ کیا کہ ٹیلی فون ایکسچینج سمیت جو سرکاری عمارتیں قبضے میں لے لی گئی تھیں اب ان پر حکومتی کنٹرول بحال ہوگیا ہے۔

’شرپسندوں کی تعداد کا اندازہ نہیں‘
 ’سرحد خاصی طویل اور دشوار ہے اس لیے افغانستان سے شرپسند آتے رہتے ہیں اور اس لیے ان کی تعداد کا اندازہ نہیں۔
فوجی ترجمان شوکت سلطان

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ’سرحد خاصی طویل اور دشوار ہے اس لیے افغانستان سے شرپسند آتے رہتے ہیں اور اس لیے ان کی تعداد کا اندازہ نہیں۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اب وہ ہزاروں میں نہیں بلکہ سینکڑوں میں ہوسکتے ہیں۔ فوجی ترجمان کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن مقامی لوگوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد حکومت کی بتائی گئی تعداد سے خاصی زیادہ ہے۔

فوجی ترجمان نے شمالی وزیرستان میں میر علی اور میران شاہ کے مخحتلف مقامات سے عام لوگوں کے نقل مکانی کی تصدیق تو کی لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی۔ ان کے مطابق جب بھی ان علاقوں میں حالات خراب ہوتے ہیں تو لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے جاتے ہیں اور بعد میں واپس آجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میر علی کے پاس جھڑپوں میں اکیس جبکہ میران شاہ میں پچیس ’شرپسند‘ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ قبائلی عمائدین کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ حکومت کی مدد نہ کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مدرسے کے مہتمم عبدالخالق اور مولانا صادق نور ان افراد کی مدد کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ مارے جاچکے ہیں یا زندہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت طاقت کے استعمال کے ساتھ عمائدین اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے بات چیت بھی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر عمائدین کی کونسلز قائم کی گئی ہیں اور اور ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جاچکے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ دو مارچ کو سیدگئی کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے حملہ کرکے 45 ’شرپسندوں‘ کو ہلاک کیا تھا جن میں پینتیس غیرملکی تھے۔ اس کے علاوہ ایک چیچن کمانڈر اور ایک فوجی بھی مارے گئے تھے۔ان کے مطابق دو اور چار مارچ کی جھڑپوں میں کل 90 سے زیادہ افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس عرصے کے دوران امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی اس خطے میں موجود تھے اور افغانستان نے پاکستان پر دراندازی کے الزامات بھی لگائے تھے۔

تباہ شدہ مکانالقاعدہ یا عام شہری
کیا وانا میں ہلاک ہونے والے القاعدہ کے رکن تھے؟
القاعدہ کی تلاش یا...
فوجی کارروائی کا شدید ردِعمل کیوں ہوا؟
زندگی کی ہلکی رفتار
قبائلی علاقوں میں زندگی کا انداز دھیما ہے
وانا کے لشکر
ڈھول کی تھاپ پر رقص اور القاعدہ کی تلاش
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگجنوبی وزیرستان
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد