BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ:’طاقت سے حل نہیں نکلے گا‘
میران شاہ
تازہ کارروائی کی وجہ سے فوج کے خلاف اشتعال بڑھ گیا ہے اور صورتِ حال مزید نازک ہوگئی ہے
میران شاہ میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد اتوار کو سینکڑوں کی تعداد میں مقامی افراد نے کپڑوں اور دیگر سامان سمیت علاقے سے بھاگنا شروع کر دیا ہے۔

محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے والے دیہاتی جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، پیدل ہی اس علاقے کو چھوڑ رہے ہیں جہاں ہفتے کو شروع ہونے والی بدترین لڑائی میں پینتالیس شدت پسند اور پانچ سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق علاقہ چھوڑنے والوں نے ہاتھوں میں سوٹ کیس اور کپڑوں کی گٹھریاں اٹھائی ہوئی ہیں اور وہ پیدل چل رہے ہیں کیونکہ علاقے میں ٹرانسپورٹ کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

پچیس سالہ نور نواز نے جو علاقے میں گاڑیوں کے پرزوں کا کاروبار کرتے ہیں، اے پی کو بتایا کہ ان کا پورا خاندان ہفتے کی رات سو نہیں سکا کیونکہ علاقے میں شدید لڑائی جاری تھی۔

میران شاہ میں رات بھر کیا ہوا
تمام رات مارٹر کے گولوں اور توپ خانے کی آوازیں گونجتی رہیں اور اتوار کی صبح تک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے رہے۔لوگ انتہائی خوفزدہ ہیں۔ یہاں کوئی سو نہیں سکا۔ بچے رات بھر روتے رہے
ایک عینی شاہد

انہوں نے بتایا کہ تمام رات مارٹر کے گولوں اور توپ خانے کی آوازیں گونجتی رہیں اور اتوار کی صبح تک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے رہے۔

نور نواز کا کہنا تھا: ’لوگ انتہائی خوفزدہ ہیں۔ یہاں کوئی سو نہیں سکا۔ بچے رات بھر روتے رہے۔‘

ہفتے کو ہونے والی جھڑپیں فوج کی طرف سے کچھ دن قبل افغان سرحد کے قریب القاعدہ تنظیم کے ایک مشتبہ اڈے پر کارروائی کے بعد شروع ہوئیں۔

گزشتہ روز سے اب تک ان جھڑپوں میں فوجی ذرائع کے مطابق پینتالیس افراد مارے جا چکے ہیں جن میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

تاہم شدت پسندوں کے طرف دار قبائلیوں کا دعویٰ ہے کہ جھڑپوں میں مقامی لوگ مارے گئے ہیں اور فوجی کارروائی سے حکومت کے خلاف اشتعال اور بڑھ گیا ہے جس سے علاقے کی صورتِ حال مزید نازک ہوگئی ہے۔

فوج نے ابھی تک کسی عام فرد کے مرنے کی تصدیق نہیں کی

تازہ جھڑپیں اسلام آباد کے جنوب مغرب میں تین سو کلومیٹر دور واقع علاقے میں ہوئی ہیں۔

تاہم مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف خبریں آ رہی ہیں۔

میران شاہ کے ایک ہسپتال میں مرنے والوں کی ایک فہرست شائع ہوئی ہے جس کے مطابق دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو افراد زخمی ہیں۔ اس فہرست کے مطابق مرنے والوں میں ایک کی عمر پچیس سال تھی اور وہ اپنے گھر پر گولا لگنے سے مارا گیا۔ فہرست کے مطابق دوسرا مرنے والا پچاس برس کا بے گھر فرد تھا۔

تاہم فوج کی طرف سے ابھی تک کسی بھی عام رہائشی کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستان نے افغان سرحد پر اسی ہزار کے قریب فوج تعینات کر رکھی ہے لیکن ان قبائلی علاقوں میں حکومت کا کنٹرول قائم نہیں ہو سکا کیونکہ یہاں کے لوگوں نے صدیوں سے بیرونی مداخلت کا مقابلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد