| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائل کے کارروائی کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گذشتہ دو روز کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر واضع کر دیا ہے کہ اس نیم خودمختار علاقے میں قبائل کے خلاف کاروائی ابھی بھی کتنی حساس، خطرناک اور مشکل ہے۔ جمعرات کے روز دور افتادہ جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں ایک مرتبہ پھر درجنوں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فوجی کاروائی کی گئی۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کاروائی اس علاقے کے ایک گاؤں کلوشاہ میں غیرملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ دوسری جانب پشاور اور وانا میں سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ یہ مقامی قبائلیوں کے خلاف کاروائی تھی جن پر مشتبہ افراد کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ وجہ جو بھی ہو بہرحال حاصل کچھ نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس قسم کے ’ناکام’ آپریشن پہلے بھی وزیرستان میں ہو چکے ہیں لیکن بظاہر جو شدید ردعمل اب سامنے آیا ہے اس سے قبل نہیں دیکھا گیا تھا۔ قبائلی علاقوں میں راکٹ حملے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ قبائلی تنازعات میں ان راکٹوں کے استعمال کے علاوہ یہ شادی بیاہ تک میں خوشی کا اظہار کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب سے پاکستان فوج نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کی تلاش کے کام کا آغاز کیا ہے سرکاری تنصیبات پر ان کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماضی قریب میں شمالی وزیرستان سے خبریں آیا کرتی تھیں کہ اُس کالج کے گرد، جہاں امریکی فوجیوں کے ٹھہرنے کی افواہیں تھیں، راکٹ گرے ہیں۔ یہ راکٹ حملے اب تک بے ضرر ثابت ہوئے تھے۔ تاہم جمعرات کو یہ رجحان بھی ختم ہوا۔ وانا میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی راکٹوں کی برسات پہلے نہیں دیکھی۔ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا قبائلیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے؟ دوسری جانب فوجی حکام اس حملے کا کلوشاہ کی کاروائی سے تعلق مسترد کرتے ہیں۔ تو کیا یہ محض اتفاق تھا؟ وانا کے شہری کم از کم یہ ماننے کو تیار نہیں۔ خشک پہاڑوں میں گھرے ہوئے وانا شہر کے مغرب میں واقع فوجی کیمپ کافی محفوظ علاقہ ہے۔ اسی چھاونی میں اہم سرکاری دفاتر جن میں پولیٹکل ایجنٹ اور ان کے نائب کے دفاتر شامل ہیں جبکہ انکی سرکاری رہائش گاہیں بھی یہیں ہیں۔ کیمپ میں داخلے پر تین چار مقامات پر نیم فوجی فرینٹیر کور کے جوانوں کی چوکیاں ہیں۔ البتہ راکٹ جیسے جدید ہتھیار کے آگے یہ حفاظت بےمعنی ہو جاتی ہے۔ اگر اس راکٹ حملے کے نتیجے میں حکومت نے احتیاط سے کام نہ لیا تو خدشہ ہے کہ اس قبائلی علاقے میں حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔ اگر فوجی حکام کا یہ کہنا درست ہے کہ تو حملے انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||