BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ: لڑائی کیوں اور کیسے؟
پاک فوج
پاک فوج علاقے میں مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں پاک فوج اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس علاقے کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لینے کےلیئے بی بی سی اردو سروس کے شفیع نقی جامعی نے پشاور میں بی بی سی کے نمائندے رحیم اللہ یوسف زئی سے بات کی۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں یہ جھگڑا کافی عرصے سے جاری ہے۔ پہلے یہ جھگڑا جنوبی وزیرستان میں تھا پھر وہاں سے پھیل کر شمالی وزیرستان میں آ گیا۔ یہاں پر حکومت اپنے آپ کو طالبان اور مجاہدین کہلانے والے افراد پر الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے غیر ملکیوں کو پناہ دی ہے۔ اس سلسلے میں وہاں جرگے اور معاہدے بھی ہوئے تھے۔

جنوبی وزیرستان میں تو کچھ نہ کچھ امن قائم ہو گیا مگر حکومت کی شرائط پر نہیں بلکہ ان مقامی طالبان کی شرائط پر جو کہ سب کے سب پاکستانی ہیں۔شمالی وزیرستان میں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے کئی بار فوجی کارروائی کی۔ حالیہ دنوں میں افغان سرحد سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈنڈے سیدگئی گاؤں میں فوجی کارروائی ہوئی اور فوج نے کہا کہ چالیس چیچن مارے گئے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے مظاہرے کیے اور دھمکیاں دیں اور دو دن قبل انہوں نے ٹیلیفون ایکسچینج اور دیگر سرکاری تعمیرات پر قبضہ کر لیا تھا لیکن پھر جرگے کی مدد سے حکومت نے وہ قبضہ ختم کروایا۔ تاہم میر علی میں ایف سی کے قافلے پر حملے کے بعد ان مسلح طالبان نے ٹیلیفون ایکسچینج پر دوبارہ قبضہ کر لیا جسے چھڑوانے کے لیے پاک فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپ خانے کا استعمال کیا جس سے نہ صرف ایکسچینج کی عمارت مکمل تباہ ہوگئی بلکہ بڑی تعداد میں مسلح افراد بھی ہلاک ہوئے۔

حالیہ واقعات میں میران شاہ کے مقامی عالم مولانا عبدالخالق کے کردار کے بارے میں رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالخالق ایک مقامی عالم ہیں اور میران شاہ میں نہ صرف ان کا ایک مدرسہ ہے بلکہ علاقے میں ان کا کافی اثر ہے۔ یہ حکومت اور امریکہ کے سخت مخالف ہیں۔

ڈنڈے سیدگئی کی فوجی کارروائی کے بعد اطلاعات کے مطابق مولانا عبدالخالق نے جہاد کا اعلان کیا ہے۔ کل پرسوں سے وہ تقریروں میں اپنے حامیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلح ہو کر آئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مطلوب ہیں اور ان پر کافی الزامات ہیں۔ حکومت انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر ان کے ساتھ کافی مسلح لوگ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ان طالبان کے کمانڈر ہیں جو حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد