BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ:ہلاکتوں کے دعوےاورحقیقت

میران شاہ
لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر طالبان کی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے تو لاشیں کہاں گئیں، تدفین کہاں ہوئی اور وہ لوگ کون تھے؟
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان گزشتہ دنوں شدید جھڑپوں میں فریقین نے ایک دوسرے کو بڑا جانی نقصان پہنچانے کے دعوے تو بہت کئے لیکن اصل صورتحال کئی روز گزر جانے کے باوجود واضع نہیں ہوسکی ہے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں سیدگئی کے مقام پر القاعدہ اور طالبان کے مبینہ ٹھکانے کے خلاف کی جانے والی کارروائی خطے میں اس نوعیت کی پہلی کارروائی نہیں تھی۔

القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی کارروائیاں گزشتہ تقریباً چار برسوں سے جاری ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ ان میں جانی نقصان سے متعلق حقیقت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

یہی کچھ اس بار بھی ہوا۔ حکومت نے ایک سو سے زائد شدت پسندوں کو جبکہ مزاحمت کاروں نے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کئے۔

عام قبائلیوں کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟ آیا اتنا جانی نقصان ہوا بھی کہ نہیں؟ میران شاہ ڈگری کالج کے اسٹنٹ پروفیسر محمد ریاض سے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ شاید اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں جتنی کہ کہا جا رہا ہے۔ ’کوئی خاص اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ میرے خیال میں عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔‘

عام لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ابھرتے رہتے ہیں کہ اگر مقامی طالبان کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں تو لاشیں کہاں گئیں، کہاں تدفین ہوئی، ان کی قبریں کہاں ہیں اور وہ لوگ کون تھے؟ بہت کوشش کے باوجود ان سوالات کے جواب نہ مل سکے۔

جن ہلاکتوں کی ہر ایک نے تصدیق کی وہ یا تو میران شاہ بازار میں تین ذہنی مریضوں کی یا پھر ایک سرکاری افسر کی بیٹی کی۔ اس کے علاوہ صرف اعداد ہی ملے۔ اتنے فوجی اور اتنے طالبان۔ طالبان اپنے صرف تین ساتھیوں کی جبکہ حکومت پانچ فوجیوں کی ہلاکت کی ہی تصدیق کرتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شدت پسند ہلاک ہونے والوں کی فوراً تدفین کر دیتے ہیں لہذا ان کے بارے میں معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حکومت بھی اکثر اعداد و شمار شدت پسندوں کے وائرلیس پیغامات کے ذریعے ہی معلوم کر پاتی ہے۔

وزیرستان میں ایک دوسرا حل طلب معمہ غیرملکیوں کی موجودگی کا ہے۔ ہر قبائلی اس سے انکار کرتا ہے۔ میران شاہ کے ڈرائیور حافظ گل جنت دین کہتے ہیں کہ ’یہاں کوئی غیرملکی نہیں ہے۔ آج تک جتنے بھی آپریشن ہوئے ہیں کہیں حکومت نے کوئی ثبوت دیا ہے کہ یہ غیرملکی تھے‘۔

فوج کی جانب سے میران شاہ میں بھارتی یا کسی اور ملک کے باشندوں کی موجودگی کے اعلانات کے بارے میں چند قبائلیوں کا کہنا تھا کہ یہ بے بنیاد ہیں۔

وزیرستان میں چار برسوں سے ہر کارروائی کے بعد یہی سوالات اٹھتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد کوئی جواب ملے بغیر ہی ذہنوں سے اتر جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی شاید ایسا ہی ہو۔

اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد