BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 March, 2006, 01:28 GMT 06:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میران شاہ: 120 شدت پسند ہلاک‘

سکیورٹی فورس کے اہلکار
پاکستانی فوج کی بڑی تعداد پہاڑی قبائیلی علاقے میں جاری آپریشن میں مصروف ہے اور اس میں کئی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں اتوار کی شام تک شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں گزشتہ تین روز کے دوران ایک سرکاری افسر کی بیٹی سمیت ایک سو بیس شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

میران شاہ اور اس کے مختلف نواحی علاقوں میں وقفےوقفے سے مسلسل جاری رہنے والی کارروائیوں کو ختم رنے کے لیے جاری آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ شہر سے پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ تین سال قبل اس علاقے میں فوج کی براہ راست کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک فوج اور طالبان نواز شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی یہ شدید ترین جھڑپیں ہیں۔

شمالی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام کے مطابق اتوار کی شام کو میران شاہ کے شاہین ہوٹل میں چھپے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی اور جس کے بعد جوابی کارروائی میں انیس شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیر کی صبح شدت پسندوں نے ایک سرکاری افسر شاہنواز کے گھر پر راکٹ حملہ کیا گیا جس میں ان کی بیٹی نائلہ جو فرسٹ ائر کی طالبہ تھیں ہلاک ہوگئیں جبکہ دو بچے اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

ظہیر الاسلام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے شدت پسندوں کو پسپا ہونے پرمجبور کر دیا ہے۔ پیر کی صبح پولیٹکل انتظامیہ اور علاقے کے فوجی کمانڈر میجر جنرل اکرم ساہی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں میران شاہ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مقامی آبادی کا بھی کہنا ہے کہ ’حالات نہایت کشیدہ ہیں اورگن شپ ہیلی کاپٹر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں‘

پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام کے مطابق تین روز قبل ایک مقامی مدرسے کے سربراہ عبدالخالق نے دو ڈھائی سو افراد کے ہمراہ میران شاہ میں سرکاری عمارتوں پر حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد پہلے ان کو جرگے کے ذریعے پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ حکومت کے ساتھ لڑائی نہ کریں۔

تاہم پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق عبدالخالق کی جانب سے حکومت کی وارننگ کو نظر انداز کرنے کے بعد شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور آرٹلری کی مدد حاصل کی گئی۔

فوج شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے سربراہ عبدالخالق فرار ہو گئے ہیں اور ان کے ساتھی بھی پسپا ہوگئے ہیں۔ پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں میں کئی افغانی بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ کل شام کو ہلاک ہونے والے افراد میں بھی کئی غیر ملکی شامل تھے۔

علاقے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پولیٹکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ اب میران شاہ اور میر علی میں امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر علی میں تو بازار کھل گئے ہیں اور ٹریفک بھی چل پڑی ہے جبکہ میران شاہ میں بازار منگل کوکھلےگا۔ میران شاہ سے ٹیلیفون کا رابطہ ٹیلیفون ایکسچینج پر فوج کے قبضے کے بعد جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو پاکستان نے پہلی مرتبہ کہا تھا وزیرستان میں جاری شدت پسندی کا تعلق بالواسطہ طور پر طالبان سے ہے اور میجر جنرل شوکت سلطان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ’ شدت پسند سرحد پار آ جا رہے ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ افغانستان سے مزید شدت پسند علاقے میں آئے ہوں۔ ہم اس علاقے کے حالات کو افغانستان کے حالات سے علیحدہ نہیں کر سکتے اور جب افغانستان میں امن ہوگا تو ان سرحدی علاقوں میں بھی حالات بہتر ہو جائیں گے‘۔

میران شاہ، رابطہ ختم
میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا
 میران شاہ میں پاک فوجلڑائی کیوں اور کیسے؟
میران شاہ میں جھگڑا کس بات کا ہے؟
اسی بارے میں
فوجی کارروائی میں 45 ہلاک
01 March, 2006 | پاکستان
میران شاہ میں جھڑپیں جاری
03 March, 2006 | پاکستان
’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘
06 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد