BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئی کارروائی، 25 سے زائد ہلاک‘

میران شاہ میں سکیورٹی فورسز
امریکی صدر جارج بش کے دورہ کے بعد کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ میران شاہ کے قریب ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پچیس سے تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شدت پسند اور ان کے مقامی حمایتی شامل ہیں۔ تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ کارروائی جمعہ کی شب آٹھ اور نو بجے کے درمیان کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ہلاک ہونے والوں کی لاشیں حکومت کے قبضے میں اور ان کا غیر ملکی ہونا کیسے ثابت ہوگا، فوج کے ترجمان نے کہا کہ لاشیں ابھی حکام کے پاس نہیں ہیں لیکن کارروائی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی ہے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق حملے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔

اس سے قبل جمعہ کے روز میران شاہ میں چھ روز کے بعد کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی کی گئی تھی اور کھجوری اور ایشا چیک پوسٹوں کو آمد ورفت کے لیے چار گھنٹے کے لیے کھولا گیا۔

میران شاہ
میرن شاہ میں حالیہ جھڑپوں میں ڈیرہ سو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعہ کی دوپہر میران شاہ کے قریب ایک زور دار دھماکے سے پورا علاقے دہل گیا تاہم اس دھماکے کی کوئی تفیصل معلوم نہیں ہو سکی۔

علاقے کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر السلام نے بتایا کہ کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی کی گئی تھی تاکہ لوگ اشیاء خوردنوش حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد شہر میں دوبارہ کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

کرفیو میں نرمی کے باوجود میران شاہ کی فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر گشت کر رہے تھے اور علاقے میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ شہر میں کسی غیر مقامی کے بغیر اجازت داخل ہونے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔

کھجوری اور ایشا چیک پوسٹ کے کھل جانے کے بعد بہت سے لوگ رزمک سید زئی اور دوسرے ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرکے بنوں پہنچتے رہے۔

میران شاہ سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں ہے

جمعہ کو شمال کی جانب سے بنوں آنے والی شاہراہ پر لوگ چھوٹے چھوٹے قافلوں کی صورت میں بنوں کی طرف آتے دکھائی دیئے۔

میران شاہ کے قریب میر علی کے قصبے میں بازار کھل گئے ہیں اور بظاہر زندگی معمول کی طرف لوٹتی دکھائی دی۔

اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد