ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مرتبہ پھر پرگزشتہ کئی روز سے اخبارات کی شہ سرخیوں میں رہنے والا میران شاہ محاصرے میں ہے، سنسان ہے۔ فوج نے شہر پر گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ اس شہر کی حالت دیکھ کر فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں کہ یہاں مکمل امن کب تک ممکن ہوسکے گا۔ کوہ سلیمان سلسلے کے خشک پہاڑوں کے درمیان واقع یہ شہر تو دور سے آپ کو دکھائی نہیں دیتا لیکن دو گن شپ ہیلی کاپٹر دائرے کی شکل میں اس بات کی وضاحت کر دیتے ہیں کہ شہر کس سمت میں ہے۔ ایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب کسی شہر میں ہنگاموں یا افراتفری کے بعد فوج کے آجانے سے خوف طاری ہوجاتا تھا اور امن بحال۔ اب شہر میں بحالیِ امن کے لئے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی نئے رویوں کا اظہار تھا یا بگڑتی صورتحال کا؟ یہ قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردِ سر ثابت ہوا ہے۔ شہر تو قدرے خاموش ہے۔ تاہم اس خاموشی کو شہر کے بازاروں میں گشت کرنے والے فوجیوں کے اعلانات توڑ رہے ہیں۔ فلیگ مارچ کے دوران لاوڈ سپیکر پر پشتو زبان میں ان اعلانات میں قبائلیوں سے تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ’علاقے میں بھارتی ایجنٹ گھس آئے ہیں جو اس ملک، فوج اور آپ لوگوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ آپ سے ہم تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔‘ یہ فوجی ایک قافلے کی شکل میں شہر میں گھوم رہے تھے جو ہلکے اور بھاری اسلحے سے لیس تھے۔ ان میں ایک توپ بردار گاڑی بھی تھی۔ شہر سے تھوڑا پہلے ایک پل کے قریب فوجیوں نے بڑے غصے میں ہماری گاڑی کو روکا اور شناختی کارڈ طلب کیا۔ تسلی کے بعد فوجیوں کا رویہ یکسر دوستانہ ہوگیا۔ انہوں نے ہمیں ناصرف آگے جانے دیا بلکہ ریکارڈنگ کی اجازت بھی دی۔ آگے بڑھے تو شہر کے مضافات میں ایک آدھ گاڑی نظر آئی اور لوگ گھروں سے باہر کھڑے ممکنہ طور پر موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ان کے کاندھوں سے لٹکتی بندوقیں اور پستول حالات کی سنگینی کا اظہار کر رہے تھے۔ مرکزی بازار میں کسی کو بھی داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔ ہم پہلے صحافی تھے جو گزشتہ دنوں کی جان لیوا لڑائی کے بعد شہر میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم ہمیں بھی تھوڑی دور موجود فوجیوں کے ایک اور گروہ نے روک دیا۔ مجھے بھی بازار میں کھڑے ایک سپاہی نے چیخ کر اور اپنا راکٹ لانچر تان کر لوٹنے کو کہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لوٹ کر اچھا کیا ورنہ میرے ایک ساتھی کی طرح میرے کیمرے سے بھی تصاویر ضبط کر لی جاتیں۔ لیکن اس سے قبل بازار میں کئی تباہ شدہ دوکانوں اور گاڑیوں کی خریدوفروخت دیکھی۔ میران شاہ افغانستان سے لائی گئی گاڑیوں کا ایک بڑی منڈی ہے۔ منڈی میں کھڑی گاڑیوں اور دوکانوں کی درو دیوار پرگولیوں اور راکٹوں کے نشانات واضح تھے۔ یہ نشانات شدید لڑائی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ گولیوں کے نشانات اتنے بڑے بڑے تھے کہ اندازہ ہوا کہ یہاں لڑی جانے والی جنگ میں چھوٹے ہتھیار کم ہی کام آئے ہوں گے۔ شہر میں بجلی اور نجی ٹیلیفون ابھی بھی منقطع ہے۔ بجلی کی تاریں ٹوٹی پڑی ہیں۔ پیٹرول پمپ پر ایک آدھ ملازم ہمیں دیکھ کر ایسا خوش ہوا جیسے کئی برسوں بعد کسی دوسرے انسان کی شکل دیکھی ہو۔ بازار میں تو نہیں لیکن اس کے باہر میران شاہ کے کئی قبائلیوں سے بات ہوئی۔ سب موجودہ حالات کی وجہ سے تشویش کا شکار تھے تاہم حکومت کے اقدامات سے بھی خوش نہیں تھے۔ ڈاکٹر مدد خان ایک مسجد سے نماز ظہر پڑھ کر واپس جا رہے تھے۔ وہ میران شاہ کے ان چند خاندانوں میں سے ہیں جنہوں نے اس تمام کشیدگی میں بھی نقل مکانی کا سوچا تک نہیں۔ ’ہم کیوں جائیں۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں ہو رہا۔ ہمارا اپنا ملک ہے۔‘ ڈاکٹر مدد کو شکایت تھی کہ اس ساری صورتحال کی ذمہ دار حکومت ہے جس نے اس علاقے کی ترقی پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ ’تعلیم کی کمی جڑ ہے اس مسئلہ کی۔‘ ابھی ان سے گفتگو جاری تھی کہ میران شاہ کے کئی اور نوجوان اور بڑے بوڑھے جمع ہوگئے۔ سب ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے غصے کا اظہار کرنے لگے۔ سب نے شکایت کی کہ بجلی نہ ہونے سے پانی کی کمی ہے اور بازار بند ہونے سے اشیاء خوردنی کی۔ ایک قبائلی نے چیخ کر کہا: ’ہم کیا کھائیں؟ مٹی یا گھاس؟‘
میران شاہ کی آنکھوں دیکھی صورتحال جاننا ایک شخص کے بغیر ممکن نہ تھا۔ وہ تھے ہماری گاڑی کے رضا کار ڈرائیور حافظ گل جنت دین۔ اکتیس سالہ حافظ ڈرائیوری سے پہلے ایک مدرسہ چلاتے تھے۔ میران شاہ سے دس کلومیٹر پہلے ایشا چیک پوسٹ پر کھجوری سے لی ہوئی ٹیکسی سے اترے تو یہ خود ہمارے پیچھے بھاگا بھاگا آیا اور ساتھ جانے کی پیشکش کی۔ اس طرح کی بےتکلفی پر پہلے تو شک ہوا لیکن چیک پوسٹ پر فوجیوں نے اس کے اچھے کردار اور قابل اعتماد ہونے کی تصدیق کر دی۔ اس کی گاڑی میں بیٹھے تو اس نے ساتھ کلاشنکوف بھی برابر کی نشت پر رکھی۔ ہم نے دعا کی کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے۔ شکر ہے اس کی ضرورت تو نہیں پڑی لیکن اس سے بات کر کے معلوم ہوا کہ وہ بھی موجودہ حکمرانوں کے خلاف قبائلی علاقوں میں پائے جانے والے غم و غصے کا اعلٰی نمونہ ہے۔ ’القاعدہ کا وزیرستان میں کوئی وجود نہیں۔ صرف یہ ہوا ہے کہ ہمارے صدر مشرف نے امریکی صدر بش کو خون کا تحفہ دینا تھا۔ بش کو تو ہم نہیں چھوڑیں گے صرف ہمارے بس کی بات ہے لیکن مشرف کا بھی ہم بندوبست ضرور کریں گے۔‘ یہ تھے حافظ گل جنت کے الفاظ۔ میران شاہ میں تو مقامی طالبان کو نہیں دیکھا اور نہ کسی سے بات ہوئی لیکن واپسی کے سفر کے دوران عیدک کے مقام پر سڑک کنارے اسی قسم کے لوگ دیکھے جو کبھی قندہار میں دیکھا کرتے تھے۔ لمبے بال، بندوق بردار طالبان۔ ان سے بھی بات کی تو انہوں نے میران شاہ کے اپنے ساتھیوں کے سیدگئی آپریشن کے بعد ردعمل کا دفاع کیا۔ ابھی ایک دوکان میں بات جاری تھی کہ ایک بوڑھے شخص نے ہم پر جاسوس ہونے کا الزام لگانا شروع کر دیا۔ وہ تو اچھا ہو حافظ کی گاڑی کے مسافروں کا جو اس نے واپسی کے دوران راستے میں اٹھائے تھے جنہوں نے اسے چپ کرا دیا۔ واپس بنوں پہنچے تو جو اطلاعات ملیں کہ مولوی عبدالخالق کا مدرسہ بارود سے تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ جس راستے سے ہم آئے تھے اسی پر چند گھنٹوں بعد پولیٹکل ایجنٹ ظہیر الاسلام پر جان کا حملہ بھی ہوا۔ یعنی فی الوقت تو ان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، یوس معلوم ہوتا ہے کہ میران شاہ یا شاید تمام وزیرستان میں حالات مکمل طور پر معملول پر آنے میں کافی وقت لگے گا۔ |
اسی بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار کی حراست06 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا05 March, 2006 | پاکستان پانچ فوجی، 46 ’شرپسند‘ ہلاک05 March, 2006 | پاکستان ’درجنوں ہلاک، ہزاروں کی نقل مکانی‘ 04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||