BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ میں تجارت متاثر

میران شاہ میں تباہ شدہ دوکانیں
کاروباری افراد حالات سے پریشان ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حالیہ کشیدگی سے جہاں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے وہیں افغانستان کے ساتھ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔

میران شاہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور سرحدی مقام غلام خان پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیسرا بڑا سرحدی کراسنگ پوائنٹ ہے۔ طورخم اور چمن کی طرح یہاں سے بھی روزانہ درجنوں ٹرک سامان لاتے اور لے جاتے ہیں۔

غلام خان کو باقاعدہ کرسنگ پوائنٹ بنانے کا اعلان گزشتہ برس جنوری میں ہوا تھا۔ اس کی وجہ افغانستان میں تعمیر نو کے لیئے اس راستے بھی سامان کی بڑی مقدار میں ترسیل کو سہل بنانا تھا۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرحدی گاؤں سیدگئی، میران شاہ اور میرعلی میں لڑائی اور کرفیو سے تجارت کا یہ سلسلہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سینکڑوں ٹرک بنوں اور غلام خان میں راستہ بند ہونے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے داخلی چیک پوائنٹ کھجوری پر دو روز سے پھنسے ایسے ہی ایک ٹرک ڈرائیور محمد زمان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں انہیں کتنے روز تک راستہ کھلنے کا انتظار کرنا پڑے۔

 اپنے عوام پر بم مت گرائیں، اپنے بچوں کے ساتھ ظلم نہ کریں، آخر ہم انسان ہیں پاکستانی ہیں، حکومت امریکہ کے کہنے پر حالات خراب مت کرے
حاجی شیر محمد

سرحدی تجارت کی بندش سے جہاں ٹرانسپوٹرز اور تاجروں کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے وہاں میران شاہ میں دکانوں اور دیگر کاروبار کی مسلسل بندش سے بھی تجارتی طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے جبکہ نجی املاک کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔

میران شاہ کالونی کے ایک رہائشی یوسف سے مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مکانات میں بڑے بڑے سوراخ ہوئے ہیں مکانات پوری طرح نہیں گرے ہیں۔ یہی حال میران شاہ میں کئی دکانوں کا بھی تھا جبکہ ایک بینک تو مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگیا۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سرکاری و نجی املاک اور کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں صحیع صورتحال تو حالات کے معمول پر آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی لیکن کاروباری طبقے کو جس کا بظاہر نہ القاعدہ اور نہ ہی طالبان سے کوئی تعلق ہے ایک مرتبہ پھر برا وقت دیکھنا پڑ رہا ہے۔

معاشی نقصان کے علاوہ روز روز کی فوجی کارروائیوں سے مقامی آبادی میں حکومت کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

میران شاہ کے ایک رہائشی حاجی شیر محمد کا کہنا تھا: ’میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے عوام پر ظلم نہ کرے زیادتی نہ کرے۔ اپنے عوام پر بم مت گرائے۔ اپنے بچوں کے ساتھ ظلم نہ کرے۔ آخر ہم انسان ہیں پاکستانی ہیں امریکہ کے کہنے پر حالات خراب مت کرے‘۔

ماہرین کے خیال میں وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائیاں جتنا طول پکڑیں گی حکومت اور عوام دونوں کے لیئے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
میران شاہ چوکی
ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کی آپ بیتی
 میران شاہ میں پاک فوجلڑائی کیوں اور کیسے؟
میران شاہ میں جھگڑا کس بات کا ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد