میران شاہ: ہمارے نامہ نگار کی آپ بیتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری حراست یا جیسے میں از راہ مذاق اب ’مہمان نوازی‘ کہتا ہوں کوئی نئی بات نہیں لیکن جب بھی اس سے نوازا گیا اس نے شک و شبہے کو ہی جنم دیا۔ حکومت سیکورٹی کے بہانے آخر کیا چُھپانا چاہتی ہے؟ قبائلی علاقے وزیرستان میں گزشتہ چار برس مقامی آبادی کی طرح صحافتی برادری کے لیے بھی انتہائی دشوار گزار ثابت ہوئے ہیں۔ دو کو جانیں دینی پڑیں جبکہ جنوبی وزیرستان میں تو کوئی صحافی اب بچا ہی نہیں۔ تقریبا سب ہی غیریقینی صورتحال اور عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ پیر (چھ مارچ) کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریبا دس کلومیٹر دور ایشا چیک پوسٹ پر ’سرکاری مہمان نوازی‘ کا دوبارہ تجربہ ہوا۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور پشاور میں اس تلخ تجربے سے گزر چکا ہوں۔ ہر مرتبہ سرکاری و فوجی اہلکاروں نے ہماری حفاظت کی تشویش کو اس حراست کی وجہ بتائی۔ یہ جملہ ’اگر آپ کو کچھ ہو جاتا ہے تو بدنامی ہماری ہوگی‘ ہر مرتبہ سنا۔ معلوم نہیں ہم صحافیوں کی حفاظت اتنی ضروری کیوں ہے جبکہ ہمارے سامنے مرنے والوں کی لاشیں، زخمی اور خوفزدہ افراد کی قطار بےیارو مددگار محفوظ مقامات کی تلاش میں سرگرداں گزرتے نظر آتے ہیں۔ کیا ان کی حفاظت ضروری نہیں؟ ان ہزاروں کا قصور کیا ہے؟ صحافی جب بھی خطرناک علاقوں کا رخ کرتا ہے تو یہ اس کا پہلے اور اس کی تنظیم کا بعد میں فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی حفاظت کا پورا بندوبست کر کے ہی اس جانب نکلتے ہیں۔ وہ بھی ان فوجیوں کی طرح اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ ان کا پیشہ ہے، شوق نہیں۔
صحافی اگر مناسب طریقے سے شناخت کے ساتھ ان مقامات تک جائے تو میرے خیال میں اسے کسی جانب سے خطرہ نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی جان بوجھ کر ہی اگر انہیں نشانہ بنائے تو بنائے ویسے انہیں کسی کا خطرہ نہیں ہوتا۔ وہ غیرجانبدار ہوتے ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ ہم بھی عام لوگوں کی طرح عام راستے سے اِیشا چوکی کو بائی پاس کر کے میران شاہ رواں دواں تھے کہ پہاڑوں سے نیم فوجی ملیشیا کے اہلکار بندوقیں اٹھائے ہمارے جانب بھاگے اور للکارا۔ وہ خود بھی خوفزدہ نظر آتے تھے ہماری تلاشی کے لیے آگے آنا بھی چاہتے تھے لیکن ایک دوسرے کو خودکش حملہ آور کا خدشہ ظاہر کر کے محتاط رہنے کی بھی ہدایات دیتے رہے۔ لیکن بالآخر ہماری ’معصوم‘ شکلیں دیکھ کر قریب آئے اور بیگ اور جیبیں ٹٹولنے لگے۔ ایک خاصہ دار تو بدتمیزی کی حد تک بےقابو تھا۔ ایشا چیک پوسٹ میں پہرے میں لایا گیا، شناختی کارڈ ایک فوجی اہلکار کو دیکھائے گئے اور کہا گیا کہ بےفکر ہوکر آرام کریں۔ وہیں ایک دن پہلے سے میران شاہ کے مقامی صحافی حاجی مجتبی کو بھی پایا۔ وہ چیک پوسٹ سے گزرنے والے عام لوگوں کی تصویر بنانے کے جرم میں حراست میں تھا۔ ٹوچی سکاوٹس کے سپاہیوں نے اپنی طرف سے خوب بہترین خاطر تواضع کی۔ برڈ فلو کی افواہ کے باوجود مرغی کھلائی اور چائے پلائی۔ حاجی مجتبی کو دیکھ کر ٹینشن بڑھتی اور سوچتے کہ رات گزارنی پڑ گئی تو کیسے گزرے گی۔ سپاہیوں نے کہا کہ وہ یا تو ہوائی فائرنگ کرکے حملہ آوروں کو دور رکھ کر یا لوڈو کھیل کر رات گزارتے ہیں۔
میرے ساتھی کیمرہ جرنلسٹ انعام الرحمان اس حراست کے دوران مسلسل آیت الکرسی کا ورد دل ہی دل میں کرتے رہے۔ اس بارے میں انہوں نے رہائی کے بعد بتایا۔ خیر اللہ اللہ کر کے آزادی کا پیغام کہیں ہیڈکواٹر سے آیا۔ اجازت لی اور واپسی کا ارادہ کیا۔ تاہم پہلے سپاہیوں میں اپنا وزیٹنگ کارڈ ’ہاٹ کیک‘ کی طرح تقسیم کیے۔ یاد رہے کہ یہ سپاہی بھی بی بی سی کے مستقل سامع ہیں۔ دشت و بیابان میں ریڈیو ان کا بہترین دوست ثابت ہوا ہے۔ ایشا میں قیام کے دوران ایک تاثر یہ بھی معلوم پڑا کہ میران شاہ میں اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا سرکاری طور پر بھی بتایا جا رہا ہے۔ کیا اسی وجہ سے ہمیں آگے جانے نہیں دیا جا رہا تھا؟ |
اسی بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار کی حراست06 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا05 March, 2006 | پاکستان پانچ فوجی، 46 ’شرپسند‘ ہلاک05 March, 2006 | پاکستان ’درجنوں ہلاک، ہزاروں کی نقل مکانی‘ 04 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||