’انسانی حقوق کا خیال رکھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری لڑائی کے دوران دونوں فریقین کو سویلین لوگوں کی ہلاکتوں سے بچنا چاہیئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا ہے کہ اسے میرانشاہ میں سویلین لوگوں کی ہلاکتوں اور املاک کی تباہی کی اطلاعات ملی ہیں تاہم علاقہ بند ہونے کی وجہ سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سنیچر کو شروع ہونے والی لڑائی کافی حد تک ختم ہو گئی ہے تاہم اکا دکا واقعات جاری ہیں۔ منگل کی رات شدت پسندوں نے ایک سرکاری گاڑی پر حملہ کیا جس میں ایک محافظ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ تنظیم نے نیو یارک سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ماضی میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں لوگوں کی فلاح کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس لیئے ہیومن رائٹس واچ نےممکنہ سویلین ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے‘۔ فوج کی جانب سے طالبان کے مبینہ کیمپوں کے خلاف کارروائی کے دوبارہ آغاز کی وجہ سے میران شاہ میں ہزاروں لوگ اپنا سامان اٹھا کر علاقے سے نکل رہے ہیں۔ تین دن کی لڑائی میں سکیورٹی فورسز نے ایک سو چالیس مبینہ شدت پسند ہلاک کیئے ہیں جبکہ فوج کے پانچ جوان بھی کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے اور کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا ہے کہ ’پاکستان فوج اور شدت پسندوں کو سویلین لوگوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئےاور انہیں نقصان سے بچانے کے لیئے تمام ممکنہ احتیاتی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں‘۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’صحافیوں اور انسانی حقوق کے معائنہ کاروں کو جلد از جلد علاقے میں جانے کی اجازت دی جانی چاہیئے تاکہ اصل حالات کا پتہ چل سکے‘۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرے ہوئے لوگ شہر چھوڑ کر قریبی پہاڑوں میں چلے گئے ہیں کیونکہ فوج نے پورا علاقہ بند کیا ہوا ہے اور فضا میں جنگی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔ ایڈمز نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں لوگوں کو اجتماعی سزا نہ دی جائے۔ بریڈ ایڈمز نے کہا ہے کہ ’اجتماعی سزا غیر قانونی ہےاور حکومت کے شدت پسندوں کے خلاف اقدامات میں اس کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے‘۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ انہں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان کے حامی لوگوں کو تشدد اور قتل و غارت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تنظیم نے عسکریت پسندوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان فوج کے جوان دو طالبان رہنماؤں مولوی عبدالخالق اور مولوی صادق نور کی تلاش میں ہیں جن پر لڑائی کی ترغیب دینے کا الزام ہے۔ پاکستان نے اس علاقے میں اکتوبر دو ہزار تین میں فوجی آپریشن شروع کیا اور اس وقت اس کی ستر ہزار فوج افغانستان کی سرحد پر تعینات ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ پر جرگہ: حالات کشیدہ08 March, 2006 | پاکستان ’میران شاہ: 120 شدت پسند ہلاک‘ 07 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: لڑائی کیوں اور کیسے؟05 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||