میران شاہ پر جرگہ: حالات کشیدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حوکمت اور قبائیلیوں کے درمحیان مفاہمت کے لیے جرگہ طلب کیا گیا ہے۔ اس دوران گزشتہ رات کو نامعلوم افراد نے شمالی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں اتوار کی شام تک شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں گزشتہ تین روز کے دوران ایک سرکاری افسر کی بیٹی سمیت ایک سو بیس شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ میران شاہ اور اس کے مختلف نواحی علاقوں میں وقفےوقفے سے مسلسل جاری رہنے والی شدت پسندوں کی کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ شہر سے پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں وار مقامی شہری بھی کشیدگی کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے نقلِ مکانی کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ تین سال قبل اس علاقے میں فوج کی براہ راست کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک فوج اور طالبان نواز شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی یہ شدید ترین جھڑپیں ہیں۔ |
اسی بارے میں ’بش کے دورے سےکوئی تعلق نہیں‘01 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی میں 45 ہلاک01 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں جھڑپیں جاری03 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||